توہین رسالت پر جمعیتہ علماء ہند سخت کارروائی کی حمایت میں آگے آئی
شرانگیزی ملکی امن واَمان کے لئے بڑا خطرہ اور مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت قرار
مانیٹرنگ
سرینگر/20اگست: توہین رسالت کے معاملے پر جمعیتہ العمائے ہند نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلم طبقہ کے مذہبی جذبات مجروح کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے کیوں کہ اس طرح کے واقعات سے ملک میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ کے پی ایس مانیٹرنگ کے مطابق کرناٹک کے بنگلورو میں اہانت رسول کے معاملہ تشدد کو لے کر ریاستی حکومت کی جانب سے کارروائی ہو رہی ہے اورسوشل میڈیا پر توہین رسالت کو لیکر سامنے آئے معاملے کے سلسلہ میں اب جمعیت علماء ہند نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے اس معاملہ کی حساسیت سے حکومت کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پریس بیان جاری کیا ہے۔ وہیں ساتھ ہی ساتھ جمعیتہ علماء ہند کے صدر قاری محمد عثمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں مسلمانوں سے توہین رسالت کے معاملہ میں قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی اپیل کی ہے۔قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ قانون کے دائرہ میں رہ کر مسلمان قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ تاہم ان کی جانب سے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا وغیرہ پر اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہانت آمیز اور اشتعال انگیز مواد کی اِشاعت کی سخت ترین اَلفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اَربابِ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ شرانگیزی ملکی امن واَمان کے لئے بڑا خطرہ اور مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اِس لئے جو اَفراد یا گروپ ایسی بے ہودہ حرکتوں میں ملوث ہیں، اْن کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ تاکہ آئندہ کسی کو یہ جراء ت نہ ہوسکے۔جمعیت علماء ہند مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی نازیبا حرکت پر فوری طور پر قریبی تھانے میں FIR درج کرائیں اور اشتعال انگیزی سے متاثر ہوکر قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں؛ بلکہ قانون کے دائرے میں رہ کر خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔انھوں نے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلی جذبات واحساسات کو سمجھ کر بروقت مناسب اقدام کرے اور شرپسندوں پر گہری نظر رکھے۔جمعیۃ علماء ہند کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ملک میں مذہبی مقدس شخصیات کی اہانت پر معقول سزا کا قانون بنایا جائے؛ اِس لئے کہ کسی بھی مذہب کا فرد اپنے مقدس رہنماؤں کی توہین برداشت نہیں کرسکتا بالخصوص ہندستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں یکجہتی اور رواداری کو باقی رکھنے کے لئے اس طرح کی قانون سازی ناگزیرہے۔
Comments are closed.