سرینگر کو چھوڑ کر وادی میں معمولات زندگی بحال ؛لالچوک ، مہاراجہ بازار، گھونی کھن میں دوبارہ دکانیں ہوئی بند
سرینگر/16اگست: جہاں وادی کے اکثر و بیشتر قصبہ جات میں کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوئیں وہیں پر شہر سرینگر میں آج بھی دکانیں بند رہیں اگرچہ صبح کو مہاراجہ بازار، لالچوک اور گونی کھن میں بازار کھل گئے تھے تاہم پولیس نے دکانیں دوبارہ بند کروائیں اور دکانداروں سے کہا کہ کل سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں اگرچہ آج دوبارہ کاروباری سرگرمیاں اور ٹرانسپورٹ بحال ہوا تاہم شہر سرینگر میں آج بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیںاور اکثر علاقوں میں دکانیں بند رہیں تاہم لالچوک ، گھونی کھن اور مہاراجہ بازار ، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ میں اگرچہ صبح دکانیں کھول دی گئیں تھیں لیکن قریب بارہ بجے پولیس نے دکانیں پھر بند کرادیں دکانداروں کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 17اگست سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی تاہم آج دکانیں بند رکھی جائیں جس کے بعد دکانداروں نے اپنا سامان پھر سمیٹ کر دکانیں بند کردیں۔ ادھر شہر کے مختلف روٹوں پر چھوٹی کمرشل گاڑیاں جیسے تویرا، سومو اور زیلو چلتی دکھائی دیں ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کی جانب سے ایک ٹویٹ آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 16اگست سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہورہی ہے لیکن لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل کریں ۔ اس کے بعد آج ایک اور ٹویٹ آیا جس میں ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا کہ سرینگر میں17اگست سے مشروف کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں گی اس کے علاوہ ٹرانسپوٹروں سے بھی کہا گیا کہ وہ سرکاری احکامات کے تحت اپنی گاڑیوں میں پچاس فیصدی مسافروں کو چڑھائیں۔ ادھر ضلع بارہمولہ کو چھوڑ کر دیگر اضلاع میں معمول کی زندگی بحال ہوئی ۔ ٹرانسپورٹ اور دکانیں دوبارہ کھول دی گئیں ۔
Comments are closed.