مسلسل دوسرے روزبھی وادی کے اطراف واکناف میں معمولاتِ زندگی مفلوج

شہروقصبہ جات میں انتہائی سخت ترین لاک ڈاﺅن

بازاروں میں سناٹا،سڑکیں سنسان،جگہ جگہ پولیس وفورسزاہلکاروںکاسخت پہرہ

 

سری نگر :۵،اگست:ضلع مجسٹریٹ سری نگرکی جانب سے منگل کی شام کئے گئے اعلان کہ بدھ کے روز شہرسری نگرمیں کرفیونافذ نہیں رہے گابلکہ کورونامخالف لاک ڈاﺅن جاری رہے گا،کے برعکس بدھ کوعلی الصبح سے ہی شہرمیں کرفیو جیسی سخت ترین بندشیں اورپابندیاں عائد رکھی گئیں ،اورآواجاہی کے تمام راستے بشمول سڑکیں ،لنک روڑ اورگلی کوچے سیل رکھے گئے ۔جے کے این ایس کے مطابق سری نگر کوشمال وجنوب مختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں کیساتھ ساتھ بین ضلعی سڑکوں پر بھی گاڑیوں کوچلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔شمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیر میں بھی کرفیو نمالاک ڈاﺅن کی وجہ سے معمول کی عوامی اورکاروباری سرگرمیاں دوسرے روزبھی مفلوج رہیں ۔بدھ کے روزعلی الصبح سے ہی شہرسری نگر کے سیول لائنز ،ڈاﺅن ٹاﺅن اوردوسرے علاقوں میں سختی کیساتھ لاک ڈاﺅن نافذ رہا جبکہ سڑکوںاورگلی کوچوں کے علاوہ اہم چوراہوں ،پلوں اوربازاروں میں پولیس وفورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی ،جنہوں نے جگہ جگہ خاردارتاریں بچھانے کے ساتھ ساتھ دیگر رکاﺅٹیں بھی کھڑی کردی تھیں ۔ادھر شمالی ،وسطی اورجنوبی کشمیر کے سبھی اہم قصبہ جات میں بھی صبح سے بندشیں اورپابندیاں عائدرہیں ۔پوری وادی کے سبھی چھوٹے بڑے بازار وں میں مکمل سناٹا چھایارہاجبکہ شہرسری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہیں اوربین ضلعی سڑکیں بھی سنسان نظرآرہی تھیں ،کیونکہ شاذونادر ہی کوئی گاڑی چلتی یادوڑتی نظرآرہی تھی ۔خیال رہے پانچ اگست2019 کومرکزی سرکارکی جانب سے لئے گئے فیصلوں کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر صوبائی انتظامیہ نے وادی کشمیر میں منگل کے روز کرفیو نافذ کردیا تھا۔2 دنوں پر محیط کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ سری نگرڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے سوموارکی شام پولیس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق علیحدگی پسند اور پاکستانی حمایت یافتہ گروپ5، اگست کو یوم سیاہ کے بطور منانے جارہے ہیں، جس کے پیش نظر پر تشدد احتجاجوں کو خارج از امکان نہیں دیا جاسکتا ہے جو عوامی جان و مال کے زیاں کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا کرفیو کا نفاذ لازمی بن جاتا ہے۔ تاہم منگل کی شام ضلع مجسٹریٹ سرینگر شاہد چودھری نے اعلان کیا کہ5، اگست کوشہرمیں کوئی کرفیو نہیں ہوگا-ضلع مجسٹریٹ سری نگر کا کہنا تھا کہ5، اگست بروزبدھ وار کو کرفیو نافذ نہیں رہے گا، لیکن کووڈ 19 لاک ڈاﺅن کے تحت بندشیں بدستور جاری رہیں گی-لیکن شہر سری نگر کے حساس علاقوں میں بدھ کو صبح سے ہی سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کر دیا گیا اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کردیا گیا۔ تاریخی لال چوک،گھنٹہ گھر اورسیول لائنز کی طرف جانے والے راستوں کو مسدود کردیا گیا اورجگہ جگہ خاردارتاریں بچھائی گئی تھیں۔ سری نگرکے کئی علاقوں میں بدھ کی صبح پولیس کی گاڑیاں لاﺅڈ اسپیکروں کے ذریعے لاک ڈاﺅن کے نفاذ کے بارے میں لوگوں کو مطلع کیاگیا اور لوگوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی گئی۔اُدھر وسطی کشمیر کے بڈگام وگاندربل اضلاع ،شمالی کشمیر کے بارہمولہ ،بانڈی پورہ وکپوارہ اضلاع اورجنوبی کشمیر کے اننت ناگ ،کولگام ،پلوامہ اورشوپیان اضلاع میں بھی سخت پابندیاں عائد رہیں ۔شمال وجنوب تمام بازاروں ،قصبوں اوردیگر مقامات پرپولیس وفورسزکے دستے تعینات رہے ،جو سرکاری ملازمین اورخصوصی اجازت نامے رکھنے والے افراد کے بغیرکسی کوپیدل یاگاڑیوں میں سوار ہوکر آنے جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔

Comments are closed.