عید الاضحی سے 15روز قبل ہی ناجائز منافع خوروں نےعوام کو لوٹنا کی شروع

غریب عوام اب سبزی خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتے ، سرکار ی ادارے لاپتہ

سرینگر/16جولائی:عید الاضحی سے 15روز قبل ہی وادی میں ناجائز منافع خوروں نے سادہ لوح عوام کو دودو ہاتھوںلوٹنا شروع کردیا ہے جبکہ سبزی فروشوں ،مرغ فروشوں ، قصابوں اور کریانہ والوں نے من مانی طریقے سے قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب عوام کی نیندیں حرام کردی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عید الاضحی سے دو ہفتے قبل ہی وادی میں ناجائز منافع خوروں نے سرکاری احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی من مانیاں شروع کی ہے ۔ قصابوں، مرغ فروشوں، سبزی فروشوں اور کریانہ والوں نے غیر عوام کی زمین اس قدر تنگ کردی ہے کہ وہ اب چاول سبزی کھانے کے بھی قابل نہیں رہے ہیں ۔ سرکار کی جانب سے گوشت کی مقرر کردہ نرخوں کو پائوں تلے روندھتے ہوئے قصاب 650روپے فی کلو گوشت بغیر اُجڑی کے فروخت کررہے ہیں ۔ مرغ 160روپے فی کلو کے حساب کی فروخت کیا جارہے اسی طرح سبزی فروشوں نے بھی اپنی من مانی طریقے سے ہی سبزی فروخت کرنا شروع کردیا ہے ۔ ایک طرف لاک ڈاون اور کوروناوائرس کی مہاماری سے عام لوگ پریشان ہے دوسری طرف مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا ہے ۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ متعلقہ حکام صرف اپنے بند کمروںمیں کاغذی گھوڑے دوڑاکر سرکار کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ زمینی سطح پر کہیں پر بھی کسی جگہ متعلقہ محکمہ کے چیکنگ سیکارڈ نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ناجائز منافع خوروں خاص کر قصابوں کے آگے ہمیشہ ہے سرکار نے ہتھیار ڈال دئے ہیں ۔ ماضی میں بھی سرکاری انتظامیہ کے افسران اور مٹن ڈیلروں کے مابین کئی میٹنگ ہوئی جس میں ہول سیل اور رٹیل قیمت مقرر کی گئی تاہم دکاندارپھر بھی اپنی من مانی پر اُتر آئے ۔ گزشتہ برس دفعہ 370کی منسوخی سے قبل گوشت 460روپے فی کلو بغیر اُجڑی کے گوشت فروخت کیا جاتا تھا پھر مذکورہ آٹیکل کی منسوخی کے پیش نظر وادی میں بندشوں اور نامساعد حالات کا بہانہ بناکر قصابوں نے گوشت 550روپے فروخت کرنا شروع کردیا تھا جس پر اگرچہ عوامی سطح پر شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا تاہم سرکار اُس وقت خاموش رہی اور لوگوں کو قصابوں کے رحم و کرم پر ہی چھوڑ دیاگیا اور رواں برس مارچ تک یہی ریٹ چلتی رہی لیکن کووڈ 19کی وجہ سے بھارت بھر میں لاک ڈاون کے بعد قصابوں نے پھر اپنی من مانی شروع کرتے ہوئے گوشت کو 650روپے بغیر اُجڑی کے فروخت کرنا شروع کیا ان سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ اس طرح قیمتوں میں اضافہ کیوں کیاجاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ باہر کی منڈیوں سے مال نہیں آتا جس کی وجہ سے گوشت مہنگاہوگیا ہے ۔ غرض ناجائز منافع خوروں نے غریب عوام پریشان کردیا ہے اور غریب طبقہ اب خالی سبزی بھی اپنی من پسند کی نہیں کھا سکتا ۔

Comments are closed.