کورنا وائرس کے کیسوں میں اوچھال اوراموات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری

وادی کشمیر میں مزید 4مریض مہلک وبائی کے شکار ہوکر موت کی آغوش میں چلے گئیں

مہلوکین کی تعداد 212تک پہنچ گئی ، لاک ڈائون کے چوتھے روز بھی بندشوں کا نفاذ جاری

سرینگر/16جولائی: جموں کشمیر میں کورنا وائرس کی قہر سامانیوں کے بیچ جہاں گزشتہ روز کیسوں میں بھاری اوچھال دیکھنے کو ملی وہیں اموات کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی جاری ہے اور جمعرات کو وادی کشمیر میں مزید چار اموات کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں مہلک وبائی بیماری سے مرنے والے مریضوںکی تعداد 212تک پہنچ گئی ہے ۔ ادھر لاک ڈائون کی واپسی کے بیچ کیسوں میں اضافہ کے باعث لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔ جمعرات کو وادی کشمیر میںمزید چار مریضوں کی موت واقع ہوئی جس کے ساتھ ہی کورونا ہلاکتوں کی تعداد212تک پہنچ گئی۔حکام کے مطابق آج دو افراد سکمز میں جاں بحق ہوگئے۔ ان میں خواجہ باغ بارہمولہ کا ایک شہری اور سرہامہ اننت ناگ کا ایک شہری شامل ہیں۔ دونوں کی عمر60سال تھی۔کورونا سے ہونے والی ایک اور موت سانبری ککر ناگ کی ایک خاتون کی تھی جس کا کورونا ٹیسٹ اْس کی موت کے تین روز بعد مثبت ظاہر ہوگیا۔تینوں افراد کے بارے میں اسپتالی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کئی امراض میں مبتلاء تھے۔ادھرکرناہ کے ہجترہ گائوں کے رہنے والے ایک ساٹھ سالہ شہری، جو کورونا میں مبتلاء تھا، کی موت بھی آج صبح سٹیٹ ہسپتال سرینگر میں واقع ہو گئی۔کرناہ ہیلتھ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ شہری کو کچھ دن قبل علاج و معالجہ کیلئے سرینگر لیجایا گیا تھا جہاں اس کا کویڈ ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آگیا۔کرناہ میں مذکورہ شہری کے رابطہ میں آئے افراد کے نمونے بھی حاصل کئے جا رہے ہیں۔ ادھر وادی کشمیر میںکورنا وائرس کے کیسوں میں بھاری اوچھال کے باعث مقامی لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔ بدھ کے روز جہاں جموں کشمیر میں ریکارڈ 13ہلاکتیں ہوئی وہیں 493کیس مثبت آئے ۔ ادھر وادی کشمیر میںلاک ڈائون کی واپسی کے بیچ چوتھے روز بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر کئی علاقوں میں کارو باری و تجارتی سرگرمیاںمتاثر رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی غائب رہی ۔ شہر سرینگر میں مسلسل چوتھے روز بھی بند شیں عائد رہی جس دوران بیشتر مقامات پر دکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھی اور گاڑیوں کو کے چلنے پر مکمل پابندی عائد تھی ۔

Comments are closed.