فوج نے شوپیاں میں جنگجوئوں کی پناہ گاہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا

بڈگام میں جنگجوئوں کے 5بالائی زمین ورکر گرفتار، ہتھیار برآمد

سرینگر/25جون: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں جمعرات کو فوج ، فورسز اور ایس او جی نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران جنگجوئوں کی ایک پناہ گاہ کو تباہ کرکے وہاں سے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ادھر پولیس اور فوج کی مشترکہ کارروائی میں ضلع بڈگام کے نارہ بل علاقے سے جنگجوئوں کے پانچ اپر گراونڈ ورکروں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیاں کے یارون نامی گائوں میں فوج کی 62آر آر ، پولیس اور فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا۔ تلاشی کارروائی کے دوران فوج نے ایک جنگجوئوں کی کمیں گاہ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جس میں کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے ۔اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس آفیسر نے بتایا کہ خفیہ جانکاری کے بعد تلاشی کارروائی شروع کی گئی جس کے بعد جنگجوئوں کے چھپنے کی ایک جگہ کا پتہ چلا جہا ں سے ہتھیار بھی برآمد کیا گیا تاہم وہاں پر کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ دریں اثناء بڈگام میں فوج اور ایس اوجی نے عسکریت پسندوں کے معاونین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن سے ہتھیار بھی برآمد کیا گیا ۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے نارہ بل علاقے میں ایک خفیہ اطلا ع پر تلاشی کارروائی شروع کی جس دوران جنگجوئوں کے 5معاونین جن کی شناخت عمران رشید ، اویس احمد، محسن قادر اور عابد راتھر اور افشان احمد کے بطور ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان سے بڑی مقدار میں ہتھیار بھی برآمد کرلیا گیا ہے جس میں 27گولیوں کے راونڈ،اے کے 47کا ایک میگزین،اور 20پوسٹر ضبط کرلئے گئے ہیں اور ان سے پوچھتاچھ جاری ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ گرفتار شدہ افراد عسکریت پسندوں کو کھانا اور پناہ فراہم کرنے کے علاوہ دیگر قسم کی مدد کرتے تھے ۔ پولیس نے ان کے خلاف FIR no 101/2020کے تحت کیس درج کرلیا ہے ۔

Comments are closed.