فورسز نے ہارون کے جنگلات سے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا

بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ باروں کے علاوہ کھانے پینے کی مختلف چیزیں اور کمبل برآمد

سرینگر/23جون/سی این آئی// سرینگر کے مضافاتی علاقہ ہارون کے جنگلات سے فورسز نے جنگجوئوں کی ایک پناہ گاہ کا پتہ لگاکر اس سے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کمین گاہ سے ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں بھی برآمد کی گئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق فورسز و پولیس نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران سرینگر کے مضافانی علاقہ ہارون کے جنگلات میں منگل کے روز تلاشی مہم شروع کی جس دوران جنگلات سے بڑے پیمانے پر ہتھیار برآمد کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ہارون کے جنگلات میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں جس کے بعد فورسز وپولیس نے مشترکہ طور پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کرکے وسیع جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیکر جنگجوئوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کارروائی شروع کی جس دوران جنگجوؤں کی ایک کمیں گاہ کا سراغ مل گیا ر اس سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود جس میں دستی گرینیڈوں سمیت یو بی جی ایل، جی پی ایس، اے کے میگزین شامل ہیں، برآمد کئے گئے۔اس ضمن میں دفاعی ترجمان راجیش کالیا نے بتایا کہ مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے منگل کی صبح سری نگر کے ہارون علاقے میں ایک تلاشی آپریشن شروع کردیا ہے جس دوران جنگلات سے جنگجوئوں کی ایک پناہ گاہ کا پتہ چلا جس میںہتھیار برآمد کیا گیا جس میں اے کے 47کا ایک میگزین،30گولیاں،ایک یو بی جی ایل اور 6گرنیڈ شامل ہے ۔ اس کے علاوہ کمین گاہ سے کئی کمبلیں ،کھجور کے پیکٹ، بسکٹ ، نیپ کن ، پانی کا کولر،اور دیگر اشیاء برآمد کی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی ایک مصدقہ اطلاع کے بعد فورسز اور پولیس نے ہارون ،داچھی گام اور دیگر ملحقہ علاقوں کے جنگلاتی علاقے کو محاصرے میں لیکر جنگجوئوں کی تلاش شروع کی تھی تاہم قریب دو دنوں تک جنگلات کا محاصر ہ کے بعد بھی فوج کو کچھ حاصل نہیں ہوا تھا جبکہ اُس وقت فوج نے ہیلی کاپٹروںکا بھی استعمال کیا تھا۔ (سی این آئی )

Comments are closed.