ترکہ وانگام شوپیان میں مسلح تصادم آرائی ، جنوبی کشمیر میں دس روز میں پانچویں جھڑپ

حزب ضلع کمانڈر اور سابق قانون ساز کے بھتیجے سمیت تین مقامی جنگجو جاںبحق ، اسلحہ و گولی بارود ضبط

جھڑپ کے ساتھ ہی شوپیان میں انٹر نیٹ خدمات بند ، حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری تعینات

سرینگر/16جون/سی این آئی// جنوبی ضلع کولگام کے بعد ایک مرتبہ پھر شوپیان کے ترکہ وانگام علاقہ میں فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان مسلح تصادم آرائی میں حزب ضلع کمانڈر راور پی ڈی پی کے سابق قانون ساز کے بھتیجے سمیت تین مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔ ترکہ وانگام جھڑپ کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر میں گزشتہ دس روز کے دوران یہ پانچویں جھڑپ تھی جن میں کل ملا کر 19جنگجو جاںبحق ہو گئے ۔ علاقہ میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کر دی گئی جبکہ تنائو کا ماحول بھی دیکھنے کو ملا ۔آئی جی پی کشمیر نے جھڑپ میں تین جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مہلوک جنگجو سرپنچ کی ہلاکت میں ملوث تھے۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ترکہ وانگام شوپیان میں دوران شب جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پانے کے بعد راشٹریہ رائفلز سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران محاصرے میں لیا ۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں منگل کی صبح اس وقت گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جب علاقے میںجنگجوئوں نے محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش میں فوج و فورسز پر گولیاں چلائی ۔جھڑپ کی شروعات کے ساتھ ہی فورسزاہلکاروں کی اضافی کمک طلب کی گئی تاکہ جنگجوئوں فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔علاقے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کئے گئے اور علاقے کو چاروں طرف سے سخت گھیرے میں رکھا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طرفین کے مابین گولی باری محض کچھ ہی منٹوں تک جاری رہی اور ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میںہی دو جنگجو جاں بحق ہو گئے جبکہ کچھ دیر بعد گولیوں کے تبادلے میں ایک اور جنگجو جاں بحق ہو گیا جس کے ساتھ ہی جھڑپ کے مقام پر خاموشی چھا گئی اور فوج و دفورسز و پولیس نے جھڑپ کے مقام سے تین جنگجوئوں کی نعشیں بر آمد کر لی گئی اور ان کے قبضے سے کچھ ہتھیار بر آمد کر لئے گئے ۔جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے جنگجو ئوں کی شناخت حزب ضلع کمانڈر زبیر احمد وانی ساکنہ ترکہ وانگام، کامران ظہور منہاس ساکنہ شاہ آباد کراوو اور منیب الاسلام ساکنہ سوگن شوپیاں کے بطور ہوئی۔ ذرائع کے مطابق زبیر احمد وانی 27 جون2017 ، منیب الاسلام 10 جون2019 اور کامران ظہور منہاس2 مارچ2019 سے سرگرم تھے۔ذرائع کے مطابق کامران منہاس پی ڈی پی کے سابق قانون ساز ظفر اقبال منہاس کا بھتیجا تھا تاہم پولیس نے مار ے گئے جنگجو ئوں کی شنا خت ظا ہر نہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دس دونوں میں یہ جنوبی کشمیر میں پانچویں جھڑپ تھی جن میں کل ملا کر 19جنگجو جاں بحق ہوئے ۔اس سے قبل شوپیان کے ربن ،پنجورہ اور سنگو ہند اور کولگام کے قاضی گنڈ نامی علاقوں میں 16 جنگجو مارے گئے تھے۔ پولیس کے ایک سنیئر افسر نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جھڑپ میںمارے گئے جنگجو ئوں کو خود سپردگی کا موقعہ بھی دیاگیا تاہم انہوں نے خود سپردگی کرنے سے انکار کیا ۔ جس کے بعد جھڑپ میں تینوں مارے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قبضے سے اسلحہ و دیگرہتھیار بر آمد کر لیا گیا ہے ۔ ادھر پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق ترکہ وانگام شوپیان علاقے میں جنگجوئوں کے موجود ہونے کی ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔ دوران تلاشی علاقے میں چھپے ہوئے جنگجوئوںنے خود کو سلامتی عملے کے گھیرے میں پا کر سیکورٹی فورسز پر گولیاں چلائی اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی ۔ اس جھڑپ میںتین عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔جھڑپ کی جگہ تینوں کی نعشیں برآمد ہوئی۔ تاہم ہلاک ہونے والے جنگجوئوں کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں معلومات کی چھان بین کی جا رہی ہے . پولیس اور سیکو رٹی فورسز نے اپنی محارت کے ساتھ بغیر کسی نقصان کے اس آپریشن کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہے ۔ تصادم آرائی کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔برآمد شدہ مواد کو مزید تفتیش اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لئے کیس ریکارڈ کے ساتھ منسلک رکھا گیا ہے۔

Comments are closed.