امسال خراب موسمی صورتحال اور مسلسل ژالہ باری نے میوہ باغ مالکان کی کمر توڑ دی
آئندہ بھی ایسی موسمی صورتحال میں سیب کی کاشت کرنا آسان نہیںہوگا / باغ مالکان نالاں
سرینگر05جون: وادی کشمیر میں جاری نا مساعد حالات سے جہاں میوہ صنعت کو پہلے کافی نقصان پہنچ گیا ہے وہیں امسال ہوئی شدید ژالہ باری کے نتیجے میں میوہ باغ مالکان کی کمر توڑ رکھی ہے اور وہ اس کشمکش میں ہے کہ آئندہ سے سیب کی فصل تیا ر کرنے کام جاری رکھیںگے یا نہیں ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں امسال خراب موسمی صورتحال اور نا مساعد حالات کے باعث میوہ صنعت خاص کر سیب میوہ کو کافی نقصان پہنچ گیا ہے ۔ حالیہ طوفانی بارش نے اپنی سیب کی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان ، پلوامہ ، اور کولگام اضلاع اور وسطی کشمیر کے بیشتراضلاع میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری خراب موسمی صورتحال اور شدید ژالہ باری سے میوہ باغات میں کافی نقصان ہو گیا ہے اور فصل تباہ و برباد ہو کر رہ گئی جس کے نتیجے میں باغ مالکان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ شوپیان کے ایک باغ مالک نے اپنی رو داد سناتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں امسال خراب موسمی صورتحال اور طوفانی بارش نے سیب کے کاشتکاروں کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی نا مساعد حالات کے نتیجے میں میوہ فصل کو کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑ ا ہے اب رہی سیہی کسر خراب موسمی صورتحال نے نکال دی ۔ انہوں نے کہا کہ باغات میں بہترین معیاد کے سیب تیار کرنے کیلئے انہیں اعلیٰ معیاد کی کھادیں اور ادویات کا استعمال کیا تھا لیکن شدید نوعیت کی ژالہ باری نے ان کی تمام خواہشات پر پانی پھیر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ جہا پہلے ہی پانچ اگست سے ان کو مشکلات کا سامنا ہے وہیںامسال انہیں کچھ امید تھی تاہم وبائی بیماری کے باعث لاک ڈائون نے ان کی اس امید کا بھی خاتمہ کر دیا ۔ ایک اور کاشتکار نے بتایا کہ طوفانی بارش کی وجہ سے ان کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے لیکن موسم کی خرابی اور سیاسی صورتحال کی وجہ سے مشکلات نے منافع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ، "ہم نے پچھلے سالوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا نقصان ہوا ہے ۔ ادھر اس حوالے سے وادی کشمیر فروٹ گرورز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کولگام اور شوپیاں میں پھلوں کی فصلوں کا تقریبا 80 80 فیصد خراب ہے”۔ وادی کشمیر میں ہر سال 22 لاکھ میٹرک ٹن سیب تیار ہوتا ہے۔
Comments are closed.