کشمیری نظر بندوں کو رہا کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرینگے/اشوک کول
سرینگر/02دسمبر/کے این ایس/ ریاستی سرکار کی اہم اکائی بی جے پی نے کہا ہے کہ وہ جیلوں میں بند کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کر نے کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کر یں گے۔انہوں نے الزام عائد کر تے ہو ئے کہا ہے کہ جیلوں میں بند کو ئی سیاسی لیڈر نہیں ہے بلکہ وہ ملک دشمن لوگ ہیں ۔اطلاعات کے مطابق مرکزی سرکار کی طرف سے سنگ بازی میں ملوث 4ہزار سے زیادہ افراد کے کیسوں کا جائزہ لینے کا ریاستی سرکار کو ہدایت نامہ جاری کرتے ہو ئے کہا کہ ان سنگ بازوں کو رہا کیا جائے جو ایک بار سنگ بازی میں ملوث ہیں اور اس کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ کہ مر کزی مزاکرات کا ر دنیشور شر ماء کے ریاست کے دوسرے دورے کے اختتام پر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور ایسی خبریں زیر گر دش تھی کہ ہو سکتا ہے کہ مر کزی سر کار سیاسی قیدیوں کی رہائے کے حوالے سے بھی کو ئی اقدام عمل میں لاسکتی ہے ۔تاہم اس بیچ ریاستی سر کار کی اہم اکائی بی جے پی کے نے جیلوں میں بند کشمیری سیاسی لیڈ روں کی رہائی کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کر نے کا من بنایا ہے۔بی جے پی کے ریاستی جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کے این ایس کو بتایا کہ جیلوں میں بند افراد ملک دشمن لوگ ہے نہ کہ سیاسی قیدی ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ جیلوں میں بند ہے ان کے جنگجوئوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ لوگ سیاسی قیدی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کی رہائی کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی لیدر بی جے پی،این سی یا کانگریس سے وابستہ جیل میں بند نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ علحیدگی پسندوں یا جنگجوئوں کو سپورٹ کرنے والوں کی بات کر تے ہو تو انہیں کیوں رہا کیا جائے انہیں قانون توڈنے یا اسکی خلاف ورزی کر نے پر بند رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلی بار سنگ بازی میں ملوث افراد کو رہا کر نے کا خیر مقدم کیا ہے اور ہم ان کی مالی اور سماجی حالت سدھارنے کے اقدامات اٹھانے کے لئے کھڑا ہو ئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر اور جنگجوئوں کو مدد کر نے والے افراد کو کیونکر کوئی سیاسی قیدی کہے اور ہم چاہتے ہیں کہ قانون اپنے حساب سے ایسے افراد کے خلاف نمٹے جو ملک دشمن سر گر میوں میں ملوث ہو ۔واضح رہے کہ حریت کانفرنس (ع) کے چیر میں میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ اگر حکومت ہند مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو انہیں پہلے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کسی بھی تاخیر کے بغیر عمل میںلانی چاہئے۔
Comments are closed.