علیحدگی پسند لیڈران سے مذاکرات ناگزیر:مظفر بیگ
سرینگر/۲ دسمبر علیحدگی پسند لیڈران سے بات کئے بغیرمرکزی مذاکرات کار کی سرگرمیوںکو بے معنی قرار دیتے ہوئے سینئر پی ڈی پی لیڈر اور رُکن پارلیمان مظفر حسین بیگ نے کہا ہے کہ حریت لیڈران تب تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے، جب تک انہیں پاکستان کی اجازت نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو لیکر بھاجپا لیڈران کی بیان بازی پر قابو نہ پایا گیا تو پی ڈی پی کےلئے نئی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ ایک مختصر انٹرویو کے دوران ریاست کے سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے یہ بات دہرائی کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین ایجنڈا آف الائنس اگر چہ دستاویزی ہے لیکن اس پردونوں طرف سے کسی لیڈر کے دستخط نہیں ہیں، لہٰذا یہ ایجنڈا سال2002کے کم سے کم مشترکہ پروگرام کے مقابلے میں بے وزن ہے۔مظفر حسین بیگ کا کہنا تھا”پی ڈی پی کو فی الوقت دو چیلنج درپیش ہیں، ایک سیاسی چیلنج اور دوسرا انتظامی سطح کا“۔اس ضمن میںانہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہر ایک سیاسی پارٹی اور حکومت کو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے دفعہ370اوردفعہ35Aکا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھاجپا لیڈران کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو لیکر بیان بازی پر روک لگوانے کےلئے بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔مظفر حسین بیگ کے بقول اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ریاست میں پی ڈی پی کےلئے نئی مشکلات جنم لے سکتی ہیں۔انہوں نے مخلوط سرکار کی کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ وزراءکو اپنی کارکردگی میں بہتری لانی چاہئے اور اس سلسلے میں بقول ان کے شکو ک و شبہات کے دائروں کو ختم کیا جانا چاہئے۔مرکز کی طرف سے مذاکرات کار کی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیشور شرما ریاست میں کسی سے بھی ملنے کا اختیار رکھتے ہیں ، تاہم ابھی تک انکی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیگ نے کہا ”حریت لیڈران سے بات کئے بغیر مذاکرات کار کی تقرری بے معنی ہے ، شاید اس کےلئے حریت والوں کو بھی پاکستان کی اجازت کا انتظار کرنا ہوگا“۔مظفر حسین بیگ نے کے ا یم ا ین کے ساتھ گفتگو کے دوران حریت لیڈران پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل میں شامل ہوں۔انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط سرکار میں بی جے پی کا پلڑہ بھاری ہے ۔ان کا کہنا تھا ”بی جے پی کو جموں میں جو مسئلہ درپیش ہے، وہ پی ڈی پی کو کشمیر میں ہے“۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے جن بنیادوں پر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے، وہ اقتدار کےلئے نہیں بلکہ ریاست کی مجموعی تعمیر و ترقی اور ریاستی عوام کی فلاح و بہبود کےلئے ہے۔
Comments are closed.