بھارت کے ساتھ پس پردہ سفارتکاری جاری : ناصر جنجوعہ
سرینگر/بھارت کے ساتھ تناﺅ پر قابو پانے کےلئے پس پردہ سفارتکاری جاری ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے پاکستان کے قومی سلامتی مشیر جنرل(ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ بھارت کو بہر حال اپنے مفاد میں مذاکرات کی میز پر آنا ہی ہوگا۔ مانیٹرنگ کے مطابق جنرل(ر) ناصر جنجوعہ نے ایک انٹرویو کے دوران ہند پاک تعلقات کے بارے میں کچھ اہم سوالوں کے جواب دئے ۔انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت کے ساتھ پس پردہ سفارتکاری جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے آپسی تعلقات میں پائی جارہی کشیدگی پرقابو پایا جاسکے اور دونوں ملکوں کے مابین تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل تلاش کیا جائے۔ان کا کہنا تھا”پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دیگر بنیادی مسائل پر بھارت کے ساتھ بات چیت کےلئے تیار ہے، بھارت کو بھی بہر حال اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کےلئے مذاکرات کی میر پر آنا ہی ہوگا“۔جنرل(ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ بھارت کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں انجام دے رہا ہے اور تمام پڑوسی ممالک کشمیر میں بے گناہوں کے قتل عام کی مذمت کرتے آئے ہیں۔انہوں نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے سیکورٹی فورسز کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرکے رہے گا۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک مانیٹرنگ کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی مشیر نے بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملے انجام دینے کےلئے افغانستان کی سر زمین استعمال کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا”اس کے واضح ثبوت ہیں ، ہمارے سارے علاقے صاف ہیں ، دہشت گرد سرحد کے اُس پار (افغانستان) سے آتے ہیں اور پاکستان کے زندر دہشت گردانہ وارداتیں انجام دیتے ہیں۔جنرل(ر) ناصر جنجوعہ نے مزید بتایا کہ افغان انتظامیہ کا اپنے علاقوں پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہے ، پاکستان صرف ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے اپنی آواز اٹھاتا ہے۔انہوں نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس معاملے کو لیکر تمام سیاسی پارٹیوں کا موقف یکساں ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی تنازعات اور سازشوں سے کمزور نہیں کیا جاسکتا۔
Comments are closed.