زالورہ سوپور میں دوران محاصرہ تشدد بھڑک اُٹھا, مظاہرے، سنگباری اور ٹیر گیس شلنگ
جنوبی کشمیر میں بعد نماز جمعہ احتجاج، پکھر پورہ میں ہڑتال

سرینگر/ یکم ٖڈسمبر/ایجنسیز/
زالورہ سوپور میں دوران محاصرہ تشدد بھڑک اٹھا اور فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیرگیس شلنگ کی۔آخری اطلاعات ملنے تک اندرون علاقہ کا محاصرہ ہٹالیا گیا تھا البتہ علاقہ کی طرف جانے والے راستوں پر فورسز کا پہرہ بٹھا دیا گیا ۔فورسزکو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایک زخمی جنگجو علاقہ میںچھپا بیٹھاہے، جس پر فورسز نے جمعہ کی شام علاقہ میںسرچ اینڈکارڈن آپریشن شروع کیا۔تاہم لوگوں نے فورسز کی شدید مزاحمت کی اور شدید نعرہ بازی کے علاوہ سنگباری کی، جس پر فورسز نے بھی زور دار ٹیر گیس شلنگ کی۔ادھرنماز جمعہ کے بعد اننت ناگ اور پلوامہ قصبوں میں تشدد بھڑک اٹھا ، نوجوانوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آکر آزادی ،اسلام کے حق میں نعرے بازی کی اور پولیس و فورسز پر سنگباری کی جبکہ فتلی پورہ پکھر پورہ میں جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں کی یاد میں ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی اور کاروباری ادارے ٹھپ رہے ، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ،پلوامہ اور بڈگا م میں انٹر نیٹ سہولیات دوسرے دن بھی معطل رہی ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق اننت نا گ کے لال چوک،ریشی بازار اور جنگلات منڈی علاقوں میں اس وقت افرا تفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کی ۔ سڑکوں پر نکل آنے والے نوجوانوں کا پولیس و فورسز نے تعاقب کیا جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے سنگباری شروع کی ۔ تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا بھی استعمال کیا جسے اننت ناگ قصبے کے نصف درجن علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑا او عید میلاد ؐ کی متبرک تقریبات میں شرکت کرنے والے عقیدت مندوں کو دقتوں کا سامنا کرناپڑا ۔ ادھر پلوامہ قصبے میں بھی اس وقت سنسنی دوڈ گئی جب عید میلاد ؐ کے سلسلے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے پُر امن طور پر ایک جلوس نکالا جو قصبے کے مختلف علاقوں سے ہو کر گزرا ۔ریلی میں شامل لوگ اسلام کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے تاہم نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں کی کثیر تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر آزاد و اسلام کے حق میں نعرے بازی شروع کی اور پولیس اسٹیشن پر خشت باری کی ۔تشدد برپا کرنے والے نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا استعمال کیا جس سے قصبے میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑا ۔ ادھر کولگام قصبے میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے نماز جمعہ کے بعد اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کرتے ہوئے سی آرپی ایف کے کیمپ پر خشت باری شروع کی تاہم فورسز اہلکاروں نے سنگباری کرنے والوں نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا جسے تشدد پر اتر آئی بھیڑ منتشر ہونے پر مجبور ہوئی۔ دریں اثناء فتلی پورہ پکھر پورہ چرار شریف میں جاں بحق تین عسکریت پسندوں کی یاد میں پکھر پورہ او ر اس کے ملحقہ علاقوں میں ہڑتال سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے ،پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ،انتظامیہ نے ناخوشگورا واوقعات کو ٹالنے کیلئے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات عمل میں لائے تھے ۔

Comments are closed.