بیرون ریاستی جیلوں میںکشمیری محبوسین کو خطرات لاحق وادی منتقل کیا جائے

 

سرینگر/29اکتوبر/ٹی آئی نیوز/ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق نے کشمیری نظربندوں کووادی منتقل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ بیرون ریاستی جیلوں میں قیدکشمیریوں کی جان کا خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کے ٹارچرکو ناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہاکہ صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے کسی ریاستی وزیرکوتہاڑجیل کادورہ کرناچاہئے۔اس دوران ڈاکٹرفاروق نے وزیراعظم ہندمودی کوپاکستان کیساتھ الفاظی جنگ بندکرنے کی صلاح دیتے ہوئے واضح کیاکہ تلخیوں کوفراموش کرکے ہی ہندوپاک قریب آسکتے ہیں ،اور تمام حل طلب معاملات کا بات چیت کے ذریعے حل نکال سکتے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق بدھ کرپارٹی ہیڈکوارٹرواقع نوائے صبح کمپلیکس متصل نیوزیرئوبرج راجباغ میں ایک اجلاس کے حاشیے پرمیڈیانمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں کا ٹارچر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جیل حکام کے اس نازیبا، ناشائستہ اور انسانیت سوز اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ رُکن پارلیمان اورریاست کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے قیدیوں کی مارپیٹ اور جان سے مار دینے کی کوششوں کو انسانی حقوق کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کے ملوثین کو قانون کے تحت سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ٹیلی فون پر مرکزی ہوم سکریٹری کے ساتھ کشمیری قیدیوں کیساتھ پیش آئے اس واقعہ کو اُٹھایا ہے تاہم انہیں چاہئے کہ وہ بذات خود یا اپنے کسی سینئر وزیر کو تہاڑ جیل بھیجیں تاکہ وہ کشمیری قیدیوں کی حالت زار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکے۔ ڈاکٹر فاروق نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سوپور کے ایک قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کیلئے عدالتی احکامات کی ضرورت پڑی جبکہ جیل حکام اُس کی خراب حالت دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہورہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو دیکھ کر یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ کشمیری قیدیوں کو بیرونِ ریاست جیلوں میں جان کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور عقل کا تقاضہ ہے کہ کشمیری قیدیوں کو فوراً سے پیش تر وادی منتقل کیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق کاکہناتھاکہ میں وزیر اعظم ہند سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کیساتھ الفاظی جنگ بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے چار جنگیں لڑیں لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ ماضی کی تلخیاں فراموش کرکے ایک دوسرے کے قریب آئیں اور تمام حل طلب معاملات کا بات چیت کے ذریعے حل نکالیں۔

Comments are closed.