کٹھوعہ/ 29 نومبر /ٹی آئی نیوز/

تہاڑجیل واقعہ کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس طرح کی حرکات میں ملوث عملہ نے نہ صرف ریاست کو بدنام کیا ہے بلکہ اپنی برادری کی شبیہ بھی خراب کی ہے۔انہوں نے ملی ٹینسی کی بنیادی وجہ کی نشاندہی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ساتھ اچھا برتائو اور نظم و ضبط بہترین پولیسنگ کی کلید ہے ۔انہوںنے پولیس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ کو ان نوجوانوں جوکہ مشکل سے 12سے 14سال کی عمر کے ہیں، کے ساتھ بطور والدین پیش آنے کی ضرورت ہے۔انہیں کونسلنگ اور رہنمائی کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ کو ان کے رہنما کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے اس کے علاوہ نوجوانوں کوسنگباری اورنشہ خوری ترک کرنے کی صلاحدیتے ہوئے واضح کیاکہ کتابوں ،قلم اورکمپیوٹرکی عادت ہی نوجوان نسل کوقومی سرمایہ بناسکتی ہے۔پولیس ٹریننگ سکول کٹھوعہ میں 25 ویںبیچ کی اٹیسٹیشن کم پاسنگ پریڈسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر چہ زمینی سطح پر بہت ساری مشکلات درپیش ہے تاہم صورتحال سے نپٹتے وقت نظم و ضبط ، لگن اور بہتر برتائو سے عوام کا تعاون حاصل کر کے بہترنتائج کا حصول ممکن ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ایک اہل پولیس عملے کا فرض اولین لوگوں کے مال و جان کی حفاظت اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں توازن قائم کرنا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر پولیس کا نظم و ضبط اور پیشہ وارانہ طور اپنے فرائض کی ادائیگی میں لامثال ہے ۔ ریاست کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ عسکریت کی بنیادی وجہ کی نشاندہی کر کے اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ حال ہی میں انہوںنے گزشتہ سال کی شورش کے دوران نوجوانوں کے خلاف درج معاملات کاجائزہ لینے کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے کہا 146146 آپ کو ان نوجوانوں جوکہ مشکل سے 12سے 14سال کی عمر کے ہیں کے ساتھ بطور والدین پیش آنے کی ضرورت ہے۔انہیں کونسلنگ اور رہنمائی کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ کو ان کے رہنما کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا۔ تہار جیل میں قیدیوں برے سلوک کے حالیہ واقعے کو ناقابل قبول اور شرمناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کی حرکات میں ملوث عملے نے نہ صرف ریاست کو بدنام کیا ہے بلکہ اپنی برادری کی شبیہہ بھی خراب کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارا ملک ایک مہذب جمہوریت ہے اور جہاں مجرموں کے لئے بھی قانونی تحفظ کی ضمانت دی جاتی ہے ۔نشیلی ادویات کے استعمال کو پولیس عملے کے لئے ایک اور چیلنج قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے پولیس کو نشیلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف پوری قوت کے سے کارروائی کرنے اور معصوم نوجوانوں کو نشے کی لت سے محفوظ رکھنے کے لئے کہا۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نوجوانوں کوسنگباری اورنشہ خوری ترک کرنے کی صلاح دیتے ہوئے واضح کیاکہ کتابوں ،قلم اورکمپیوٹرکی عادت ہی نوجوان نسل کوقومی سرمایہ بناسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب ہمارے بچے اورنوجوان کتابوں وقلم اورلیپ ٹاپ سے رغبت رکھیں گے تووہ تب ہی اپنے مستبقل کوتابناک اورباوقار بناپائیں گے ۔وزیراعلیٰ نے خواتین مخالف جرائم بڑھنے پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے پولیس حکام پرزوردیاکہ وہ زنانہ پولیس تھانوں کومضبوط بنانے کی طرف خاص توجہ دیں ۔اس موقعہ پروزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مختلف محاذوں پرگراں قدرخدمات انجام دینے پرپولیس محکمہ کی سراہناکرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے حق میں ایکس گریشیاء رقم میں اضافے کامعاملے مرکزی وزارت داخلہ کیساتھ اُٹھایاگیاہے ،اوروہاں سے بہت جلدمثبت جواب ملنے کی اُمیدہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سرینگر میں پولیس کی جانب سے قائم کئے گئے ڈی ۔ایڈکشن کے سینٹر کے کام کاج کو دیکھ کر مسرت ہوئی۔تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے مرکز ریاست کے ہر ضلع صدر مقام پر قائم کئے جانے چاہئیں۔وزیر اعلیٰ نے خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ پر اپنے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے خواتین پولیس سٹیشن متاثرین کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوں گے ۔انہوںنے مزید کہا کہ ان پولیس سٹیشنوں کو آنے والے دنوں میں مزید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے بہبودی اقدامات کی تفصیل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ادارے کے لئے ایکسگریشیا رقم میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے اور انہوںنے مرکز کو بھی اپنے حصے میں اضافہ کر کے اسے مرکزی نیم فوجی دستوں کے مساوی بنانے کے لئے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس آر او 43کے تحت ہمدردی کی بنیاد پر تقرریوں کے معاملات گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران حل کئے گئے ہیںاور محکمہ پولیس میں کاڈر ریوکی مانگ بھی پوری کی گئی تاکہ پولیس کے افسران کے لئے ترقی کے بہتر مواقع یقینی بنائے جاسکے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کانسٹیبلری میں سلیکشن گریڈ کوٹا میں اضافہ کر کے ترقی کے مزید مواقع فراہم کئے گئے ۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف صحت بیمہ اور قرضہ سکیموں کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ انہوںنے جموں وکشمیر پولیس کی جدید کاری پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور جرائم کا پتہ لگانے کے لئے جدیدترین آلات ، ہتھیار اور گاڑیاں حاصل کی جارہی ہیں۔وزیر برائے جنگلات و ماحولیات چودھری لال سنگھ ، قانون ساز اور سابق قانون ساز ، ر پولیس افسران اور ضلع انتظامیہ سے وابستہ افسران کے علاوہ فارغ التحصیل کانسٹیبلوں کے اہل خانہ اس موقعہ پر موجود تھے۔اس سے قبل اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر شیش پال وید نے وزیر اعلیٰ کا افسران کو کانسٹیبلری کے لئے اٹھائے گئے متعدد بہبودی اقدامات کے لئے شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے محکمہ کی جانب سے افسران اور جوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔ڈی جی پی نے پولیس ، پبلک روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے افسروں اور جوانوں کو اپنے فرائض کے ادائیگی کے دوران عوام کے تعاون کے حصول کے لئے کام کرنے کے لئے کہا۔ آج منعقدہ تقریب میں 953جوان پولیس ٹریننگ سکول سے دو سال تربیت کے بعد فارغ التحصیل ہوئے ۔ان میں سے بیشتر اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھتے ہیں اور فارغ التحصیل جوانوں میں 150 پوسٹ گریجویٹ اور 348 گریجویٹ شامل ہیں۔

Comments are closed.