ٹنل کے آر پار ہزاروں کی تعداد میں مسافر پھر درماندہ
کشمیرمیں عوامی حلقوں نے سکھ برادری کا شکریہ اداکرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا
سرینگر/22فروری: ٹنل کے نزدیک آر پار ہوئی تازہ برفباری کی وجہ سے شاہراہ پر کئی جگہوں پر تازہ پسیاں گرآنے کی وجہ سے سرینگر جموں شاہراہ کو مسلسل تیسرے روز بھی جمعہ کو بند رہی جس کی وجہ سے شاہرہ کے دونوں جانب ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں درماندہ ہوکے رہ گئی ہیں ۔ اس دوران سکھ برادری سے وابستہ افراد کی جانب سے درماندہ مسافروں کو طعام و قیام کی سہولیات بدستور فراہم کی جارہی ہے جس کی وادی کے عوامی حلقوں نے کافی سراہنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قوم سکھ برادری کی مشکور ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے بعد بھی بلا لحاظ ذات پات اور مذہب و ملک کے انسانی ہمدردی کا ثبوت پیش کیا ۔ جبکہ دوسری جانب بیررون ریاست کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں بدستور جاری ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ کو ٹنل کے نزدیک ہوئی تازہ برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں بدھ کے روز اُس وقت ٹریفک کیلئے بندکردیا گیا تھا جب رومسو اور دیگر علاقوں میں تازہ پسیاں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ ناقابل آمدورفت بنی۔حکام کے مطابق اس شاہراہ کو تازہ برفباری کے بعد گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹریفک کے ذرائع کے مطابق شاہراہ پر رامبن۔رامسو علاقے میں بارش سے پسیاں گر آئی ہیں اور بانہال علاقے میں تازہ برفباری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پسیاں اور برف ہٹانے تک شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت ناممکن ہے۔سی این آئی ذرائع کے مطابق شاہراہ صاف کرنے کا کام موسم ٹھیک ہوتے ہی ہاتھ میں لیا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق فی الوقت شاہراہ پر کم و بیش1700گاڑیاں درماندہ ہیں جن میں مال بردار اور مسافر گاڑیاں، دونوں شامل ہیں۔اور ان گاڑیوں میں سوار ہزاروں کی تعداد میں بشمول ڈرائیور مسافر درماندہ ہیں ۔ادھر دونوں جانب ہزاروں درماندہ مسافروں کے کھانے پینے اور رہائش کی سہولیات کے علاوہ طبی امداد سکھ طبقہ سے وابستہ رضاکار فراہم کررہے ہیں ۔ شاہراہ بند ہونے کی تاریخ سے اب تک سکھ برادری نے ہزاروں کی تعداد میں درماندہ مسافروں کو طعام و قیام کی سہولیات فراہم کی جارہی ہے ۔ سکھ برادری کی جانب سے درماندہ مسافروں کو بلالحاظ مذہب و ملت اور رنگ و نسل کے انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے پر کشمیرمیں عوامی حلقوں نے سکھ برادری کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھ برادری کی جانب سے انسانی بنیادوں پر کشمیریوں اور دیگر درماندہ مسافروں کو کھانا پینا فراہم کرنا انسانیت کی اونچی مثال ہے اور اس طبقہ نے انسانیت کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار اداکیا ہے ۔ عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ دوسری جانب کشمیر سے باہر کشمیری طلبہ، تاجروں ، مریضوں تیمار داروں اور ملازمین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہے ۔ عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود بھی سکھ برادری نے کشمیریوں کی مدد جاری رکھنے پر طبقہ خراج تحسین کا مستحق ہے ۔
Comments are closed.