بیرون وادی کشمیریوں کو تنگ و طلب کرنے کا سلسلہ دراز

اُتراکھنڈ پرائیویٹ یونیورسٹی میں سات کشمیری طالب علم معطل

سرینگر/20فروری/سی این آئی/ اْتراکھنڈ کی کانٹم گلوبل یونیورسٹی میں زیر تعلیم سات کشمیری طالبان علم کو سوشل میڈیا پر ”قابل اعتراض” پوسٹ ڈالنے کی پاداش میں رورکے ،ہری دوارمیں قائم مذکورہ یونیورسٹی سے معطل کیا گیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لیتہ پورہ حملہ کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو ہراساں کرنے کے علاوہ ان کو تعلیمی اداروں سے بے دخل کرنے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور نوڈا، دہرادون اور دیگر جگہوں کے بعد اب اُتراکھنڈ میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو یونیورسٹی سے بے دخل کردیا گیا ہے جن پر الزام لگایا گیا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد انہوں نے ’’بھارت دشمن‘‘پوسٹ کئے تھے ۔ اْتراکھنڈ کی کانٹم گلوبل یونیورسٹی میں زیر تعلیم سات کشمیری طالبان علم کو سوشل میڈیا پر ’’قابل اعتراض” ‘‘پوسٹ ڈالنے کی پاداش میں رورکے ،ہری دوارمیں قائم مذکورہ یونیورسٹی سے معطل کیا گیا ہے۔اطلاعات میں یونیورسٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی منگل کو عمل میں لائی گئی جب مذکورہ یونیورسٹی کے سینکڑوں طالب علموں نے جمع ہوکر اس کا مطالبہ کیا کہ کشمیری طالبان علم کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جنہوں نے بقول اْنکے فیس بْک پر ”قوم دشمن” پوسٹ ڈالا تھا۔احتجاج کرنے والے طالب علموں نے دھمکی دی تھی کہ اگر کشمیری طالبان علم کو نہ نکالا گیا تو وہ ہی یونیورسٹی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔یونیورسٹی حکام کے مطابق بعد میں حالات پر قابو پانے کیلئے کشمیری طالب علموں کو ہی معطل کیا گیا۔ادھر گذشتہ روز بھی نوڈا، دہرادوں اور دیگر شہروں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو یونیورسٹی سے بے دخل کیا گیا ہے ۔ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اگرچہ بیرون وادی زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے اور اس حوالے سے مرکزی سرکار اور ریاستوں سے بھی رابطہ کیا تھا تاہم زمینی سطح پر کشمیری طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ واضح رہے کہ 14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں ایک فدائین حملے میں سی آر پی ایف کے 49اہلکاروں کی موت واقع ہوئی تھی جس کے بعد بھارت بھر میں کشمیری طلبہ ، تاجروں اور ملازمین کے خلاف نفرت اور تشدد کے واقعات شروع ہوئے ۔

Comments are closed.