نیشنل کانفرنس جموں اور بیرون ریاست میں سرگرمِ عمل۔ علی محمد ساگر

کشمیریوں کے مال و جان کا تحفظ کے لئے

سرینگر: جموں اور بیرونِ ریاست قیام پذیر کشمیریوں کے مال و جان کے تحفظ اور وطن واپسی کو یقینی بنانے کیلئے نیشنل کانفرنس اَن تھک کام کررہی ہے اور پارٹی کے صدرِ محترم بذات خود نگرانی کررہے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران پیرزادہ احمد شاہ، قیصر جمشید لون(ایم ایل سی)، شمیمہ فردوس، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، پیر آفاق احمد، پیر محمد حسین، ایڈوکیٹ نذیر احمد ملک، شوکت احمد میر، منظور احمد وانی، حاجی عبدالاحد ڈار کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔اجلاس میں جموں اور بیرونِ ریاست قیام پذیر کشمیریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور پارٹی کی طرف کشمیریوں کے تحفظ اور وطن واپسی کو یقینی بنانے کیلئے اُٹھائے جارہے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ جنرل سکریٹری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی لیڈر شپ پہلے دن سے کشمیریوں کے جان و مال کی سلامتی کیلئے عملی طور پر کام میں لگی ہوئی ہے۔ لیتہ پورہ حملے کے بعد کشمیریوں کو نشانہ بنانے سلسلہ جونہی شروع ہوا، نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے پہلے ہی روز مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کیساتھ نئی دلی میں ملاقات کی اور کشمیریوں کے تحفظ کی اپیل کی۔ اس کے بعد ہی مرکز نے ریاستوں کیلئے ایڈوائزری جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نہ صرف جموں میں کشمیریوں کے قیام و طعام اور ان کی روانگی کی نگرانی کررہے ہیں بلکہ دیگر ریاستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کل انہوں نے ہماچل، پنجاب اور اترا کھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ بات کی اور کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنانے کی تاکید کی۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ جموں میں نیشنل کانفرنس کے لیڈران اور عہدیداران کو مکہ مسجد اور دیگر مقامات پر کشمیریوں کیلئے وقف رکھا گیا ہے اور پارٹی کی طرف سے لنگر کا اہتمام بھی مسلسل کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ہیڈکوارٹر کو بھی بیرونِ ریاست سے مسلسل فون کالز موصول ہورہی ہے اور سرینگر سے بھی بیرونِ ریاست کشمیریوں کی راحت رسانی کیلئے کام میں لگے ہیں۔ لولکتہ کی مثال دیتے ہوئے ساگر نے کہا کہ وہاں 15کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور اس بارے میں جونہی نوائے صبح کمپلیکس کو فون پر اطلاع ملی تو ہم نے ان نوجوانوں کی رہائی ممکن بنائی۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کشمیریوں کیخلاف درج کئے گئے کیسوں کی فوری منسوخی کا مطالبہ کرتی ہے اور ملک کے عوام سے امن کی اپیل کرتی ہے۔ اس دوران بیرونِ ریاست خصوصاً جموں کے حالیہ تشدد آمیز واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر ایڈوکیٹ شمیمہ فردوس نے مرکزی اور ریاستی انتظامیہ سے پُرزور اپیل کی کہ وہ جموں میں امن و امان کی فضاء پٹری پر لانے کیساتھ ساتھ وہاں کشمیری تاجر، ملازمین، مزدوروں اور طلباء وطالبات کے مال و جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ پارٹی کی خواتین ونگ کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے کہا کہ گورنر انتظامیہ سے پُر زور اپیل کی کہ وہ شرپسند اور امن دشمن عناصر ،جو ریاست کے صدیوں کے بھائی چارے کی ریت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں ، پر فوری طور پر کریک ڈاؤن کرکے اُن کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں۔ اس کے علاوہ کشمیریوں اور مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔شمیمہ فردوس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شرپسند اور فرقہ پرست عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ایک ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر ہمیشہ تشدد کیخلاف اور عدم تشدد کے حامی رہے ہیں اور ہر حال میں مذہبی ہم آہنگی اور آپسی بھائی چارے کی ریت قائم و دائم رکھی۔انہوں نے کہا کہ 90کی دہائی ہو، 2008، 2010یا پھر 2016میں جب کشمیر جل رہا تھا ، لیکن اس دوران یہاں ملک بھر سے لوگ آتے رہے اور یاترا جاری رہی اور کشمیریوں نے نہ صرف یاترا کو احسن طریقے سے جاری رکھنے میں اپنا تعاون پیش کیا بلکہ جہاں جہاں ضرورت پڑی وہاں مسلمانانِ کشمیر نے یاتریوں کیلئے قیام و طعام کے انتظامات بھی کئے۔ 2014کے سیلاب کے وقت بھی، جب کشمیری اپنا سب کچھ پانی میں کھو دیا تھا،اہل کشمیر نے بچاؤ کارروائیوں کے دوران غیر ریاستی سیاحوں ، تاجروں، ملازموں اور مزودورں کو بچایا اور قیام و طعام کیلئے ناقابل فراموش کام کیا۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ بلوائیوں کے حملوں میں جن لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچا ہے اُنہیں بھر پور معاضہ دیا جانا چاہئے۔ اجلاس میں صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری، سینئر لیڈران خالدہ بیگم، ایڈوکیٹ نیلوفر مسعود، رخصانہ جبین، عائشہ جمیل اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

Comments are closed.