بھارت میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کو سنگین مشکلات کا سامنا

جان بچانے کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ کر وادی واپس لوٹنے پر مجبور

سرینگر: کشمیریوں پر حملوں کے بعدبھارت میں زیر تعلیم طلباء جان بچانے کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ کر وادی واپس لوٹنے پر مجبور ہیں جبکہ جموں اور بھارت کے مختلف شہر وں میں ہزاروں کشمیری بشملو طلبا ، تاجر اور مریض جانیں بچانے کیلئے مساجد اور درباروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔سی این ایس کے مطابق جموں اور بھارت کے دیگر علاقوں میں ہزاروں کشمیری مسلمان جانیں بچانے کیلئے مساجد اور درباروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔۔موجودہ حالات میں کشمیری مسلمان جموں اور بھارت کے دیگر شہروں میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں بھارت میں زیر تعلیم طلباء جان بچانے کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ کر وادی واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔گرگاؤں، دلی کی یونیورسٹی میں حکام نے منگل کو ایک کشمیری طالبہ کا داخلہ منسوخ کردیا جس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اْس نے سوشل میڈیا پر لیتہ پورہ حملے کو لیکر کوئی پوسٹ ڈالا ہے۔یونیورسٹی حکام کے مطابق مذکورہ کشمیری طالبہ، جو ریڈیو امیجنگ ٹیکنالوجی کی طالبہ ہے، کیخلاف اْنہیں شکایت ملی تھی۔مذکورہ کشمیری طالبہ، کشمیر کے اْن سات طالب علموں میں شامل ہوئی ہے جن کے داخلے مختلف اداروں میں یا تو منسوخ کئے گئے ہیں یا جنہیں معطل کیا گیا ہے۔ادھر نوئڈا کالیج میں بھی کپوارہ کے رہنے والے اشفاق احمد کھوجاکو لیتہ پورہ حملے کے بارے میں سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالنے کی پاداش میں معطل کیا گیا ہے۔مذکورہ کالیج کے چیف پروکٹر،سنجے پنچاری نے متعلقہ ایس ایس پی کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں اْنہوں نے مذکورہ کشمیری طالب علم کیخلاف ’’سخت‘‘ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم کشمیری طالبان علم کو سنگین مشکلات جھیلنی پڑ رہی ہیں یہاں تک کہ اْنہیں کہیں کہیں جسمانی اذیتوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Comments are closed.