ویڈیو:آ ہوں اورسسکیوں کے بیچ پلوامہ میں عسکریت پسند اور شہر ی سپر دخاک
سات بار نماز جنازہ ادا۔ جھڑ پ میں خا کستر ہوئے املاک کی از سر نو تعمیر کے لئے لاکھوں روپے کا چند جمع
سرینگر19فروری /سی این ایس / آ ہوں ،سسکیوں اور ضلع میں مکمل ہڑتا ل کے بیچ پلوامہ میں مارے گئے جیش محمد کے عسکریت پسند اور شہر ی کو سپر دخاک کیا گیا۔ان تدفین میں ہزاروں لوگ شر یک ہوئے اور دونوں کی یکے بعد دیگر ے سات مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔اس دوران معرکہ آ رائی کے دوران فورسز کاروائی کے نتیجے میں زمین بوس ہوئے مکانات اور دیگر تعمیرات کی از سر نو تعمیر کے لئے لاکھوں روپے مالیت کا چند جمع کروایا کیاگیا ۔سی این ایس کے مطابق گذشہ روز پنگلنہ میں فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران جیش محمد کے کمانڈر ہلال احمد ر اور مشتاق احمد نامی شہری بھی جاں بحق ہوئے تھے کو منگل کوپنگلنہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔دونوں کی جسد خاکیوں کو پیر کی شام ہی لواحقین کے سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے جنوبی کشمیرکے کئی دیہات سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے تھے اور وہ آزادی کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔ صبح سے ہی پنگلنہ پلوامہ میں لوگوں کی تعداد میں سینکڑوں کا اضافہ ہوتا گیا اور یوں ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوگیا تھا۔ ان کے جنازہ کے پیچھے چلنے والے جلوس میں اسلام آزادی،پاکستان،حزب المجاہدین، جیش محمد‘‘کے حق میں نعرہ بازی کی گئی جبکہ خواتین سینہ کوبی کرتی ہوئیں نظر آ ئیں۔ ہلال احمد کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے جو انتہائی غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے۔ہلال کی یکے بعد دیگرے پانچ بار نماز جنازہ ادا کی گئی بعد میں انہیں احتجاجی مظاہروں، آزادی اور اسلام کے حق میں اور بھارت مخالف نعروں کی گونج سپر د خاک کیا گیا۔ ادھر جھڑ پ میں مار ے گئے مشتاق احمد بٹ نامی جاں بحق عام شہری کی آخری رسومات میں بھی لوگوں کی ایک بھاری تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر لوگوں نے بھارت کیخلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ان ہلاکتوں کے خلاف پلوامہ ضلع بھر میں مکمل ہڑتال رہی۔ کاروباری ادارے اور بیشتر سرکاری و غیر سرکار ی دفاتر بند رہے جبکہ ٹریفک بھی معطل رہااور تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بری طرح مفلوج ہو گر رہ گئی۔ دریں اثنا ء اس معرکہ آ رائی میں فورسز کاروائی کے نتیجے میں زمین بوس ہوئے مکانات اور دیگر تعمیرات کی از سر نو تعمیر کے لئے لاکھوں روپے کا چند جمع کروارہے تھے اور شام تک لاکھوں روپے جمع ہو چکے تھے۔
Comments are closed.