ڈاکٹروں کی پرایؤیٹ پریکٹس کی جانب بڑھتا رحجان غریب عوام کیلئے سم قاتل، محکمہ طب خواب خرگوش میں۔عوام جائے تو جائے کہاں؟

سرینگر15فروری /سی این ایس / مال زر کی لالچ نے ڈاکٹروں کو اندھا کر دیا ہے۔ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں یا بڑے ان کے خلاف عام شکایت یہ ہے کہ ان کی نظر مریض کی صحت سے زیادہ اس کی جیب پر رہتی ہے۔یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دورحاضر میں علاج و معالجہ کے شعبہ سے خدمت خلق کا جذبہ مفقود ہوتا جارہا ہے۔ بسا اوقات ایسے ڈاکٹروں کی حوصلہ شکنی اور نا عاقبت اندیش ڈاکٹر ہی کرتے ہیں جن کو مال زر کی لالچ نے ایسا اندھا بنا دیا ہے کہ ان کو اس کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ہے۔پرائیویٹ اسپتالوں میں تو یہ وبا عام ہے۔ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر ہوں یا بڑے اسپتال، عام شکایت یہ ہے کہ ان کی نظر مریض کی صحت سے زیادہ اس کی جیب پر رہتی ہے۔علاج کے دوران ڈاکٹر مریضوں کو چیک اپ کے عنوان پر’ قابل اعتماد لیب‘کی جانب ریفرکردیتے ہیں۔تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ایسی جانچوں کی فیس مناسب ہوتی ہیں۔ ان مریضوں سے ڈاکٹر کوئی فیس وصول نہیں کرتے بلکہ متعلقہ لیب والے خودہی کمیشن دیتے ہیں۔انھیں کون سمجھائے کہ کوئی اجرت اس وقت جائز ہوتی ہے جب وہ اجرت دینے والے اور اجرت لینے والے کے درمیان تعین ہو۔ صورت حال یہ ہے کہ ڈاکٹر مریض سے کوئی فیس براہ ست نہیں لیتے اور مریض یہ سمجھ کرعلاج کرواتا ہے کہ وہ ڈاکٹر معائنہ کی فیس تک نہیں لیتے ہیں۔ لیکن وہ لیب کے ذریعہ مریض سے فیس وصول کرتے ہیں۔ گویامریض کو لاعلم رکھ کران سے پیسے لئے جاتے ہیں۔ دوسرے کمیشن اداکرنے کی وجہ سے جانچ کرنے والے ٹسٹ کا چارج بڑھاکر لیتے ہیں۔ تیسرے ایسی صورت میں ڈاکٹرزیادہ سے زیادہ ٹسٹ لکھناچا ہتاہے ، ظاہر ہے کہ براہ راست اسے کوئی فیس نہیں مل رہی ہے ، اسلئے یہ صور حال جائز نہیں رہتی۔ اکثراوقات اس میں رشوت کی صورت پائی جاتی ہے ، یعنی لیب والے کمیشن اس لئے دیتے ہیں کہ ڈاکٹرزیادہ سے زیادہ مریضوں کوان کے پاس بھیجاکریں جبکہ معالج کیلئے اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ وہ مریض سے اپنے مشورہ کی فیس طے کرکے صو ل کرلے ، یاخود دوابناکر مریض کودے ، اور اس سے بازار کی قیمت سے بڑھ کر پیسے وصول کرے ، کیونکہ مبیع کی قیمت متعین کرنا بائع کا حق ہے۔اسی قسم کی متعدد بے ضابطگیوں نے مریضوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ نوبت یہاں آپہنچی ہے کہ بعض ڈاکٹر مریضوں کو حصول مال وزر کی لالچ میں پرائیویٹ کلینکوں میں علاج ومعالجہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ ان کو بلا کس خوف دو دو ہاتھ لوٹ سکیں۔ نیم طبی عملہ والے اور بعض ڈاکٹر آپسی ساز باز زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کیلئے غیر معیاری ادویات کا کاروبار سنبھالے ہوئے ہیں۔ جو مریضوں کیلئے سم قاتل سے کچھ کم نہیں ہے۔ پرایؤیٹ پریکٹس اگر چہ گناہ نہیں لیکن یہ کام اس وقت خطرناک ہوجاتا ہے جب ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سے ساتھ وابستگی رکھنے والے لوگ اپنی جیبوں کو بھرنے کے خاطر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔بعض ڈاکٹر قیمتی اور مہنگی دوائیاں تجویز کرتے ہیں جبکہ کم قیمت والی دوائیوں سے بھی علاج ہو سکتا ہے۔ حکومت تو ایسے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائیاں کرنے کی دھمکیاں دیتی رہتی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ کرنے کے موڈ میں نہیں ہوتی ہے اِس سے ایسے بے ضمیر ڈاکٹر وں کے حوصلے اور زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور وہ لوگوں کو دو دو ہاتھ لوٹنے کا سلسلہ دراز کرتے جارہے ہیں ضرورت اِس امر کی ہے کی قوانین و ضوابط عمل درآمد کرانے کیلئے دیانت دار اور فعال اصحاب کی مانیٹرنگ سیل قائم کر دی جائے جو ایسے ڈاکٹروں کا وقت وقت پر محاسبہ کرنے کیلئے با اختیار ہو جو اِس ج?رم اور گ?ناہ کے مرتبک ہو رہے ہوں اور اِن کی پیدا کردہ صورتِ حال عوام الناس کیلئے بلا لعموم جبکہ غربامساکین کیلئے بالخصوص سوہانِ روح ہو۔

Comments are closed.