ویڈیو: کیلم کولگام میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین خونین معرکہ آرائی ، پی ایچ ڈی اسکالر چار ساتھی سمیت جاں بحق

فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُر تشدد جھڑ پیں ، ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ و بلٹ فائرنگ ، ایک درجن کے قریب زخمی
جگری دوست کی ہلاکت سے دلبرداشت وسیم بشیر عسکری صفوں میں شامل ہونے کے بعد صرف دس ماہ تک سرگرم رہا

سرینگر/10جنوری/سی این آئی/ جنوبی ضلع کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں پی ایچ ڈی اسکالر اپنے چار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہو گئے جبکہ دو رہائشی مکانات بھی زمین بوس ہو گئے ۔ جھڑپ میں پانچ مقامی جنگجوئوں کی خبر پھیلتے ہی پورے جنوبی کشمیر میں میں درجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ ہوئی جس دوران درجنوں افراد مضروب ہوگئے ۔ پولیس نے جھڑپ میں پانچ جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں کو کامیابی پر مبارکبادی دی ہے ۔ادھرمقامی ذرائع کے مطابق جنوبی ضلع کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو ا پی ایچ ڈی اسکالر مئی 2018میںفورسز فائرنگ سے دوست کے جاں بحق ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو ا اور محض دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا تاہم پولیس نے ابھی تک مہلوک جنگجوئوں کی شناخت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا ، سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کو اتوارکی اعلیٰ الصبح علاقے کو محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔

 

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے ساتھ ہی فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی جبکہ علاقے کو پوری طرح سیل کر دیا گیا اور جنگجوئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے کو سیل کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں لوگوں نے گھروں سے باہر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے اور جھڑپ کے مقام کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس کے بعد فورسز نے تمام اہم راستوں پر پہرہ بٹھا کر جنگجو ئوں مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور فوج نے مکان کے ملبے سے 3جنگجوئوں کی نعشیں بر آمد کی گئی جبکہ مزید دو جنگجوئوں نے نزدیکی مکان میں پنا ہ لی اورگولیوں کا تبادلہ ایک مرتبہ گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد فورسز نے دوسرے رہائشی مکان کو بھی بارودی دھماکے سے اڑا دیا جس کے بعد تلاشی آپریشن کے دوران مزید دو جنگجوئوں کی نعشیں بر آمد کی گئی ۔ جن کی شناخت پی ایچ ڈی اسکالر وسیم بشیر راتھر عرف ذیشان ساکنہ عشموجی کولگام ،زاہد احمد پرے ساکنہ گوپال پورہ ڈی ایچ پورہ کولگام ، ادریس احمد بٹ ساکنہ آرونی بجبہاڑہ ، عاقب نظیر ساکنہ زنگل پورہ کولگام اور پرویز احمد بٹ ساکنہ نقسن پورہ قیمو کولگام کے بطور ہوئی ہے جبکہ تمام مہلوک جنگجو ئوں کا تعلق عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے بتایا جاتا ہے ۔ اور ان کے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابھی علاقے میں خونین معرکہ آرائی جاری تھی کہ کولگام کے درجنوں علاقوں میں پانچ جنگجوئوں کے جاں بحق ہونی کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران مبینہ طور پر 20افراد شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک اور سرینگر علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔ ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی درجنوں علاقوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور وادی کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اسی دوران سبب جنوبی کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب اہلیان وادی انتہائی بے قراراور بے چین نظر آئے۔ادھر پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق ضلع کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے اتوار اعلیٰ الصبح جونہی تلاشی آپریشن شروع کیا اس دوران گاوں میں موجود جنگجوئوںنے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی اور دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں پانچ جنگجوہلاک ہوئے ۔مہلوک دہشت گردوں کی نعشیں برآمد کی گئی ہے اور اُن کی شناخت کیلئے کارروائی جاری ہے۔ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ عوام الناس سے ایک بار پھر التماس ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے۔ادھرجنوبی ضلع کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو ا پی ایچ ڈی اسکالر مئی 2018میںفورسز فائرنگ سے دوست کے جاں بحق ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو ا اور محض دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا ۔سی این آئی کو مقامی ذرائع سے معلو م ہوا ہے کہ وسیم بشیر راتھر ولد بشیر احمد راتھر ساکنہ عشموجی کولگام کشمیر یونیورسٹی میں شبعہ انگریزی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کر رہا تھا اور مئی 2018میں گھر سے لاپتہ ہونے کے بعد عسکری صفوں میں شامل ہو گیا ۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر وسیم کی بندوق کے ساتھ تصویر وائرل ہو گئی جس میں انہوں نے عسکری صف حزب المجاہدین میں شمولیت کی تصدیق کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق وسیم بشیر نہایت ہی ذہین اور قابل نوجوان تھے تاہم 06مئی 2018کو جگری دوست عادل احمد کی سی آر پی ایف فائرنگ سے ہلاکت کے بعد وسیم بشیر نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ عادل احمد اور وسیم بشیر دو قریبی ساتھی تھے اور عادل سی آر پی ایف میں تعینات ہونے کے بعد انہوں نے نوکری کو خیر آباد کہہ دیا جس کے بعد عادل نے مقامی اسکول میں بطور استاد کام کر نا شروع کیا ۔ مقامی ذرائع کے مطابق مئی 2018میں حزب کمانڈر صدام پڈر اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد فورسز کی فائرنگ سے چار نوجوان بھی جاں بحق ہو گئے جن میں وسیم بشیر کا قریبی دوست عادل بھی تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ عادل کے نماز جنازہ میں شمولیت کے بعد وسیم بشیر گھر سے لاپتہ ہو گیا جس کے بعد اگرچہ اسکو گھر والوں نے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے جبکہ انہوں نے پولیس میں بھی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اہل خانہ اس وقت حیران رہ گیا جب وسیم کی بندوق کیساتھ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور اس بات سے تصدیق ہوئی کہ انہوں نے عسکری تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ۔ دس ماہ تک سرگرم رہنے کے بعد وسیم اپنے چار ساتھیوں سمیت اتوار کے روز کیلم کولگام میں ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہو گیا ۔

Comments are closed.