پلوامہ میں صف ماتم کی لہر ، برستی بارش کے بیچ معصوم طالب علم علاقے میں سپرد خاک
سرینگر: جنوبی ضلع پلوامہ کی کی فضا بدھ کو اس وقت پھر مغموم ہوئی جب پانچ روز قبل رہمو پُر اسرار گرینیڈ دھماکے میں زخمی ہونے والا 13سالہ طالب علم صورہ میں زندگی کی جنگ ہارگیا۔اسی دروان بارشوں اور برفباری کے بیچ 13 سالہ کمسن بچے کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس کے بعد اسے پُر نم آنکھوں کے ساتھ آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ سی این آئی کو پلوامہ سے اس ضمن میں نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ رہمو پلوامہ میں بدھ کے بعد دوپہر اس وقت ایک مرتبہ پھر صف ماتم کی لہر دوڑ گئی جب پانچ روز قبل دربگام پلوامہ میں جھڑپ کے بعد کچھ کلو میٹر کی دوری پر پُر اسرار طور سماعت شکن دھماکے میں زخمی ہونے والا 13سالہ معصوم لڑکا جنید بلال ولد بلال احمد صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زیر علاج رہنے کے بعد آخر کار زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ خیال رہے کہ پلوامہ کے دربگام علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین دو مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے جس کے بعد جھڑپ کے کچھ ہی مقام دوری پر پر اسرار طور ایک گرینیڈ دھماکہ ہوا جس میں دو کمسن طالب علم جنید بلال اور شفاعت بشیر زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد جنید بلال کو شدید زخمی حالات میں سرینگر کے سکمز اسپتال منتقل کیا گیا گیا جہاں وہ پانچ روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے بعد دوپہر زندگی کی جنگ ہار گیا ۔معصوم کی میت جو نہی آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں قیامت صغری بپا ہوئی جبکہ احتجاجی ہڑتال اور برستی برفباری کے بیچ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ معصوم کے آبائی گھر پہنچ گئے۔معصوم جنید کی نماز جنازہ آبائی گائوں میں ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔کمسن جاں بحق نوجوان کے آخری سفر میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور جذباتی مناظر وفلک شگاف نعروں کے بیچ معصوم کی میت کو سپرد لحد کیا گیا۔
Comments are closed.