حریت ع کے چیئر مین کے ساتھ رابطے کے بعد حریت گ کے چیئر مین کی پاکستانی وزیرخارجہ کیساتھ فون پربات چیت

نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب ،پاکستانی وزیر خارجہ کی کاروا ئی پر کیا احتجاج

سرینگر/: حریت ع کے چیئر مین کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ قائم کر نے بعد پاکستانی وزیرخارجہ نے حریت گ کے چیئر مین کے ساتھ ٹیلی فون رابطہ قا ئم کر نے کے دوران کشمیر کی تازہ ترین صورتحال انسا نی حقوق کی پامالیوں کشمیریوں کیساتھ یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجا گر کر نے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ۔ادھربھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ کی کاروا ئی کوناقا بل برداشت اندرو نی معملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر کو دفتر خا رجہ طلب کر کے اس سے ایک احتجاجی خط تھما دیا ۔پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارت کی کارا ئی کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور پاکستان کشمیر مسئلے کا فریق ہے کشمیریوں کے سا تھ بات چیت کرنے سے پاکستان کوکو ئی نہیں رو ک سکتا ہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق حریت ع کے چیئر مین مولوی عمرفاروق کے ساتھ پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ٹیلیفونگ بات چیت کے بعد انہوں نے حریت گ کے چیئر مین سید علی شاہ گیلانی کیساتھ بھی ٹیلی فون پررابطہ قا ئم کر کے کشمیر کی موجودہ صورتحال انسانی حقو ق کی پامالیوں کشمیر یوں کے سا رتھ اظہار یکجہتی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کواجاگر کر نے کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ۔پاکستانی وزیرخارجہ نے حریت گ کے چیئر میں کوبات چیت کے دوران یقین دلایا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنیاور کشمیریوں پرڈھا ئے جانے والے مبینہ ظلم ستم کے بارے میں برادری کوآگاہ کریگا تا کہ وہ بھارت پر دباؤ قا ئم کر کے اسسے کشمیرکا مسئلہ حل کر نے پرراضی کرسکے ۔سید علی شاہ گیلانی اور شاہ محمود قریشی کے مابین ٹیلیفونگ گفتگو پر بھارت نے سخت بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے اندرونی معملات میں بار بار مداخلت کا مرتکب ہورہا ہے جوبھارت کیلئے ناقا بل قبول ہے ۔وزارت خارجہ کیت ترجمان وجئے گوہالی نے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو دفتر خا رجہ طلب کر کے ملک کی تشویش سے آ گاہ کرتے ہوئے انہیں ایک احتجاجی خط تھما دیا جس میں بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے حریت قیادت کیساتھ ٹیلی فونگ رابطے پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے ۔ادھر پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارت کی کاروا ئی کو سفارتی آ داب کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر متنازعہ خطہ ہے اور پاکستان کشمیر مسئلے کابنیادیفریق ہے اور پاکستان کو کشمیریوں کے سا تھ بسات چیت کر نے سے کو ئی نہیں روک سکتا ہے ۔دفتر خا رجہ کے ترجمان نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے حریت کانفر نس کی قیادت کیساتھ رابطہ قا ئم کیاہے تب بھارت کی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تھا تا ہم اب جب سے نریندر مودی کی سر برا ہی میں حکومت کاقیام عمل میں آ یا ہے تب سے بھارت کی حکومت کو کشمیریوں کی بات کر نے ان پر ڈھا ئے جانے والے ظلم ستم کواجاگر کر نے اور کشمیریوں کوان کاجا ئزحق دلانے کے پاکستان کے مطالبے پر بھارت بار بار اعتراض کر رہا ہے ۔دفتر خارجہ کے تر جمان نے کہا کہ پاکستان ایسی کوشوں سے مرعوب ہو نے والا ملک نہیں ہے۔

Comments are closed.