سرینگر۔جموں شاہراہ تیسرے روز بند۔تین ہزار کے قریب گاڑیاں درماندہ

وادی میں ادویات ،تازہ سبزیوں، پھلوں، گوشت اوراشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا

سرینگر: سرینگر۔جموں شاہراہ سنیچر کو مسلسل تیسرے روز بند ر ہنے کے باعث تین ہزار کے قریب گاڑیاں ، قاضی گنڈ اور بانہال کے درمیان درماندہ ہیں ۔شاہراہ کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے اہل وادی کو ادویات ،تازہ سبزیوں، پھلوں، گوشت اوراشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بتایا کہ5 فروری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا۔ سی این ایس کے مطابق جموں سرینگر 295کلومیٹر طویل قومی شاہراہ ’’نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا‘‘کی طرف سے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ بہتر ٹریفک آمدورفت کے قابل نہ بن سکی ہے۔موسم سرمامیں برف باری ہویا پھر موسم گرما کے دوران برسات، کئی کئی ہفتوں تک اس پر ٹریفک مسدود ہوکر رہ جاتی ہے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو مشکلات سے گذرنا پڑتاہے۔7نومبر2015کو وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے سرینگر سے جموں وکشمیر ریاست کے لئے جو80,068کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیاتھا، اس میں سے جموں سرینگر قومی شاہراہ کے 189کلومیٹر طویل حصہ کی تعمیر کیلئے 8324.93کروڑ روپے منظور کئے گئے تھے جس میں سے اب تک 5652.03کروڑ روپے واگذار اور 5051.97کروڑ روپے خر چ کئے جاچکے ہیں۔اتنی رقم خر چ کرنے کے باوجود شاہراہ کی ماضی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھنے کو مل رہی ہے جس کا خمیا زہ لاکھوں لوگوں کا بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہفتہ کو پسیاں گر آ نے کے سبب جموں سرینگر ہائی وے پر ٹریفک کو روک دیا ہے جس کی وجہ سے ہائی وے پر ٹرکوں کی لمبی قطار نظر آ رہی ہے۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اس شاہراہ پر بانہال اور رام بن کے درمیان تازہ پسیاں گر آئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پرانی پسیاں ہٹانے کا کام جاری تھا کہ ہفتہ کی صبح تازہ پسیاں گر آنے سے شاہراہ پر مزید رکاوٹیں پیش آئیں۔محکمہ ٹریفک کے مطابق شاہراہ پر کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔حکام کے مطابق ایک سو درماندہ ٹینکر، جو جموں سے پیٹرول لیکر آرہے تھے، نے گذشتہ رات دیر گئے جواہر ٹنل پار کی۔اب بھی کم و بیش تین ہزار گاڑیاں، جن میں زیادہ تر مال بردار گاڑیاں شامل ہیں، قاضی گنڈ اور بانہال کے درمیان درماندہ ہیں۔سڑک بند ہونے کے سبب سینکڑوں ڈرائیور پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں کھانے پینے اور دیگر چیزوں کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ قاضی گند میں مقا می لوگ درماندہ ڈرائیوروں کو تہر ی کے علاوہ چاول اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں کا انتظا م کررہے ہیں تاہم جو ٹر ک ڈرائیور بستیوں سے دور کھڑ ے ہیں انہیں سخت مشکلاتدرپیش ہیں۔ادھرشاہراہ کے مسلسل بند رہنے کی وجہ سے اہل وادی کو اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔اس پر ستم یہ کہ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا حد تک اضافہ کیا ہے۔شاہراہ مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں گو شت، پھل اورتازہ سبزیاں نایا ب ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں لوگ گونا گوں سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔سرینگر۔جموں شاہراہ کے بند ہونے کے فوراً بعد ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز عناصر قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ کیا ہے۔ شہر سرینگر میں اکثر صارف سبزیوں، پھلوں اور ضرورت کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی شکایت کررہے ہیں۔ شہر سرینگر کے علاوو وادی کے مختلف علاقوں سے بھی لوگوں نے سبزیوں اور پھلوں کے اضا فے دامو ں پر ناراضگی کا اظہار کیاہے۔ شاہراہ بند ہو تے ہی شہر سرینگر سمیت وادی بھرمیں گو شت، پھل اورتازہ سبزیاں نایا ب ہوئی ہیں اور یہ چیزیں مشکلاً ہی ملتی ہیں اور جہاں یہ چیز یں دستیا ب ہیں وہاں دکانداروں نے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے نرخ ناموں کو بالائے طاق رکھ کر از خود تمام اشیائے ضروریہ کے دام مقرر کر لئے ہیں۔ایسا لگ رہاہے کہ شاہراہ بند ہوتے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آیا اور عام شہریوں کو اضافی داموں سبزیاں اور دیگر ضروریات فروخت کرکے انکو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شہر سرینگر کے تمام علاقوں میں دکانداروں نے گذ شتہ کئی روز سے سبزیوں کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ،سبزی فروش کیلئے اگرچہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے محکمے نے قیمتیں مقرر کر لی ہیں لیکن حکومت کی طرف مشتہر شدہ سبزوں کے ریٹ لسٹ خاطر میں نہیں لائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں زبردست تشویش لاحق ہو رہی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جموں سرینگر شاہراہ بند ہوتے ہی وادی کے بازار گویا سوکھ گئے ہیں اور سبزی دودھ سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات والی اشیاء معدوم ہوکر رہ گئی ہیں ۔ ضروری غذائی اجناس میں اضافے کے ساتھ ساتھ سبزی اور میوہ فروشوں نے لوٹ مچا کر رکھ دی ہے اور من مانی قیمتوں پر سبزی کو فروخت کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ پہلے تو سرینگر جموں شاہراہ مہینوں بند ہوا کرتی تھی لیکن غذائی اجناس اور دیگر ضروریات زندگی کا اسٹاک اتنی جلد بازاروں سے نایاب نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہم یکسر اسی شاہراہ کے سہارے چھوڑ دئے گئے ہیں۔اس دوران محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق اگلے تین چار دنوں کے دوران وادی میں موسم خشک مگر ابر آلود رہے گا۔محکمہ کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے بتایا کہ5 فروری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہے گا۔

Comments are closed.