نجی سکولول منتظمین طلبہ کے والدین سے لاکھوں روپے داخلہ فیس کرتے تھے وصول اب نہیں چلے گی من مانی ،
پرائیوٹ سکولوں کی جانب سے داخلہ فیس پر لگائی محکمہ ایجوکیشن نے بریک
سرینگر/یکم فروری/سی این آئی/ پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے والدین کو داخلہ فیس کے نام پر لوٹنے کاسنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم نے پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ والدین سے داخلہ فیس پر موٹی موٹی رقومات لینا بند کریں بصورت دیگرانکے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ سرکاری حکمنامہ پر اطمیان کااظہار کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے فیصلے کی سراہناکرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ سکول منتظمین کی جانب سے من مانیوں پر ڈور کسنے کا وقت آگیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ریاستی حکومت نے ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت نجی یا پرائیویٹ اسکولوں میں ’داخلہ فیس‘لینے پر روک لگاتے ہوئے پرائیویٹ اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ نئے ایڈمیشنزیا داخلوں کیلئے طلبہ یا ان کے والدین سے کوئی فیس وصول نہ کیا کریں۔اس کے علاوہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’فیس ڈھانچہ‘ کومنظر عام پر لایا کریں اور متعلقہ انٹرنیٹ وئب سائٹوں پر ’فیس ڈھانچہ‘کو اَپ لوڈ اور نوٹس بورڈوں پر چسپاں کیاکریں۔ذرائع کے مطابق کے مطابق ریاستی محکمہ تعلیم کی طرف سے سکولی فیس کا تعین کرنے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی ’دِی سکول فی فیکزیشن کمیٹی‘یعنی ایس ایف ایف سی نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے،جس میں نجی یا پرائیویٹ سطح پر چلائے جارہے اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں میں اندراج(داخلہ) کیلئے طلبہ ،ان کے سرپرستوں یا والدین سے کسی بھی قسم کی فیس کا تقاضا نہ کریں۔حکمنامہ میں کہا گیا ہے’’پرائیویٹ سکول کسی بھی قسم کی داخلہ فیس طلبہ،ان کے سرپرستوں یا والدین سے وصول نہ کریں۔تاہم وہ ٹیوشن فیس،سالانہ فیس(چارجز)،ٹرانسپورٹ فیس اور سیروتفریح یا دوروں کیلئے ’رضاکارانہ‘فیس وصول کریں گے‘‘۔حکمنامہ میں پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسر،ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن اور ایس ایف ایف سی کے انتظامیہ آفیسر کے سامنے رپورٹ(کاپی)پیش کریں۔ حکمنامہ میں ایس ایف ایف سی نے تاہم پرائیویٹ اسکولوں کو اگست2018فیس ڈھانچہ کی بنیاد پرٹیوشن فیس میں6فیصد اضافہ کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ پرائیویٹ اسکولوں کو متعلقہ انٹرنیٹ وئب سائٹوں پر فیس ڈھانچہ کو اَپ لوڈ کرنے اور نوٹس بورڈوں پر چسپاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ وادی میں چلائے جارہے پرائیوٹ سکولوں میں داخلہ فیس پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک روپے تھا جو ایک عام آدمی کے بس سے باہر کی بات تھی ۔ یادرہے کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے داخلہ فیس’’ایڈمشن ‘‘پر سرکاری کی جانب سے کوئی حد مقرر نہیں تھی ۔ والدین کی مجبور کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے پرائیوٹ سکول منتظمین لاکھوں روپے داخلہ فیس طلب کرتے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر میں قائم جی ڈی گوئنکا عمر کالونی صدر بل میں داخلہ فیس 1لاکھ روپے ہیں ۔ گرین ویلی ایجوکیشنل انسٹچیوٹ الٰہی باغ میں ایڈمشن فیس 1لاکھ روپے ، پرزنٹیشن کانونٹ سکول راجہ باغ 1لاکھ روپے ہے جبکہ کشمیر ہاروڈ ملہ باغ میں 80ہزار روپے، آر پی سکول میں 80ہزار روپے، اسی طرح شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں ویلکن سکول سوپور میں داخلہ فیس 40ہزار روپے ہیں ۔ اسی طرح اننت ناگ میں قائم ریڈین پبلک سکول میں 30ہزار روپے ، شفیرڈ پبلک سکول اننت ناگ 30ہزار روپے اسی طرح سینٹ لیڈ اننت ناگ میں 30ہزار روپے اور دلی پبلک سکول سنگم میں داخلہ فیس 50ہزار روپے ہیں ۔سکولوں میں داخلہ فیس کیلئے کوئی حد مقرر نہ ہونے کے بارے میں جب ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن سے فون پر بات کرنی چاہی تو موصوف کا موبائل بند آرہا تھا۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف سرکاری سطح پر دعویٰ کیا جارہا ہے ہے کہ سرکاری سکولوں کی جانب سے کی جارہی من مانیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ماہانہ فیس ، وردیوں اور کتابوں کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی دوسری طرف سکولوں کے داخلہ فیس میں اس قدر اضافہ کیا جارہا ہے کہ والدین قرض لیکر اپنے بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلانے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ پرائیوٹ سکولوں کو داخلہ فیس میں کوئی حد مقرر نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں کے منتظمین والدین سے موٹی موٹی رقومات حاصل کررہے ہیں۔
Comments are closed.