وزیر اعظم ہند کا دورہ ریاست ،3فروری کوکشمیر بند ھ کی کال : :مشترکہ مزاحمتی قیادت

کشمیر آمد پر سوائے احتجاج کے کچھ اور نہیں کیا جاسکتا

سرینگر:۳۱،جنوری: 3 فروری کو وزیراعظم ہند نریندر مودی کی جموں کشمیر آمد پر کشمیریوں سے مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ،میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جس شخص نے پچھلے پانچ سال سے کشمیریوں کی جائز تحریک حق خود رادیت اور ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت و مقاومت کو کچلنے کیلئے قتل و غارت ،کاروبار اور اقتصادیات کی تباہی ،پیر و جوانوں کی اسیری اور آہنی مظالم کو اپنا مرکزی وطیرہ اور طریقۂ کار بنا یا ہوا ہے ‘ اس کی جموں کشمیر آمد ہمارے لئے کسی بھی صورت کوئی اچھی خبر نہیں ہوسکتی اور اس پر سوائے احتجاج کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق قائدین نے کہا کہ ۲۰۱۴ ؁ء میں جب نریندر مودی نے بھارت کی حکمرانی کا تاج اپنے سر پر سجایا تو روز اوّل سے ہی موصوف نے کشمیریوں کو زیر کرنے کیلئے آہنی مظالم کا سلسلہ شروع کردیا۔ کبھی پنڈتوں کیلئے اسرائیلی طرز کی بستیاں تعمیر کرنے، کبھی سابق فوجیوں کو کشمیر میں بسانے، کبھی مغربی پاکستان کے شرنارتھیوں کو جموں کشمیر کا مستقل باشندہ بنانے کے پروگرام سامنے لائے گئے اور جب کشمیریوں نے اپنی مثالی مزاحمت سے ان جابرانہ اقدامات کا راستہ روکا تو قتل و غارت گری، قید و بند کے سلسلے کی درازی، مکانات اور رہائشی عمارات کو بارود و آگ کی نذر کردینے، پیلٹ مار کر سیکڑوں کشمیریوں کی بینائیاں سلب کرنے، GST جیسے ٹیکس اقدامات کرکے یہاں کے کاروبار اور اقتصادیات کو تباہ و برباد کرنے، ۲۰۱۴ ؁ء میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران بیرون دنیا سے آنے والے امداد و نصرت کو روکنے ،کشمیریوں کی اقتصادی صورت حال اور ٹورزم کو تباہ کرنے کیلئے یہاں آنے والے سیاحوں کو روکنے، بھارتی ایجنسیوں این آئی اے ،ای ڈی وغیرہ کو استعمال کرنے، کشمیری اسیروں پر کالے قانون پی ایس اے کے تحت گرفتار کرنے اور بیرون جموں کشمیر جیلوں میں شفٹ کرنے جیسے مظالم و مجابر کا آغاز کردیا گیاجو تاہنوز جاری ہیں۔ قائدین نے کہا کہ پچھلے پانچ برس کے دوران سیکڑوں کشمیری جوانوں جن میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں کو تہہ تیغ کیا گیا اور دنیا نے دیکھا کہ مقتولین کی لاشوں کو گھسیٹا گیا، جلاڈالا گیا،مسخ کیا گیا اور لاشوں پر جشن تک منایا جاتا رہا۔ رہائشی مکانات اور عمارات کو بارود ، پٹرول اور کمیکل کا استعمال کرکے مسمار کیا جاتا رہا اور فاخرانہ انداز میں اس تباہی کو فلمایا اور نشر کیا جاتا رہا،کشمیر کے جنوب و شمال ووسط میں لوگوں کو CASOاور کریک ڈاؤن کے نام پرفوجی جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور پیلٹ مار مار کر ۱۶ برس کی حبہ جان سے لیکر ۸۰ سالہ بزرگ تک کی بینائیاں سلب کردی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ کشمیریوں کو سرنگوں کرنے کیلئے این آئی اے، ای ڈی اور دوسری ایجنسیاں استعمال کی گئیں اور کشمیریوں کو تہاڑ سے لیکر بنگال اور پنجاب سے لیکر ہریانہ کی جیلوں تک میں ڈالا گیا۔ کشمیریوں کی اقتصادیات کو تباہ کرنے کیلئے نہ صرف جی ایس ٹی جیسے ٹیکس قوانین کو نافذ کیا گیا بلکہ کشمیر آنے والے سیاحوں تک کو یہاں آنے سے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ قائدین نے کہا کہ بھارت کے یہی وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے پچھلے کشمیر دورے کے دوران کشمیری سیاحتی اداروں کی اپیل کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری سیاحت اور دہشت گردی میں سے ایک کو چن لیں اور یوں موصوف نے یہاں آنے والے سیاحوں کو واضح پیغام دیا کہ وہ کشمیر نہ آئیں۔ قائدین نے کہا کہ آج بھی بھارتی وزیراعظم ۸۵۰ میگا واٹ ریٹل پاور پراجکٹ کو نیشنل ہائڈرو الکٹرک پاور کارپوریشن(NHPC) کے حوالے کرنے کیلئے آرہے ہیں۔ یہ بھی کشمیریوں کے وسائل خاص طور پر پانی اور جنگلات کو لوٹنے اور جموں کشمیر کے لوگوں کی اقتصادیات کو مکمل طور پر مفلوج کرکے کشمیریوں کو اپنے ہی وسائل کے استعمال کے لئے بھارت کے سامنے ہاتھ پھیلانے کیلئے مجبور کرنے کا ادارہ جاتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وسائل لوٹ کر بھارت کے شہروں کو روشن کیا جارہا ہے اور ہمیں موٹی موٹی بلیں ادا کرنے کے باوجود سخت ترین سردی کے ایام میں بھی بجلی سے محروم کرنے اور بجلی کو نجی ملکیت میں دینے اور پری پیڈ میٹر لگاکر ہمیں مذید زچ کرنے کی دھمکیاں بھی آئے روز دی جارہی ہیں۔ قائدین نے کہا کہ این ایچ پی سی کے نام تلے اس لوٹ مار کو کشمیری مذید برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف زور دار مزاحمت کی جائے گی ۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ مودی جی کا ہی دور ہے کہ جب جموں کے مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ کردیا گیا اور انہیں نقل مکانی تک پر مجبور کردینے کی سعی کی گئی۔ یہی ہیں کہ جن کی جماعت نے اپنی مسلم اور کشمیر دشمنی کی ترنگ میں کٹھوعہ کی معصوم آصفہ کی بے حرمتی اور فساکانہ قتل تک کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر جائز ٹھہرانے کا گناہ کیا۔یہی ہیں کی جن کی چھترچھایا میں آج بھی جموں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردینے کا سلسلہ جاری ہے۔ قائدین نے کہا کہ مظالم و مجابر ، آہنی اقدامات اور ٹارچر،کشمیر و مسلم مخالف آئینی و اقانونی اقدامات اُٹھانے اور کشمیریوں کی مزاحمت و مقاومت کو کچلنے کیلئے دوسرے ظالمانہ ہتھکنڈے اُٹھانے ، ان کا حکم دینے اور ان ظالمانہ اقدامات کو جائز ٹھہرانے والی سیاسی شخصیت کی یہاں آمد کسی بھی صورت میں مظلوموں اور مقہوروں کیلئے باعث مسرت نہیں ہوسکتی اور اس پر کشمیری سوائے احتجاج کے کچھ اور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کشمیریوں سے اپیل کی وہ اتوار‘۳؍ فروری ۲۰۱۹ ؁ء کے روز‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جموں کشمیر آمد پر مکمل اور ہمہ گیر کشمیر بندھ رکھیں اور اپنے کاروبار، اداروں ،ٹرانسپورٹ اور دوسری سرگرمیوں کو معطل رکھ کر دنیا پر واضح کریں کہ کشمیری مظالم و مجابر کی انتہا کے باوجود اپنی حق خود رادیت کے حصول کی پرامن جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر حال میں جاری رکھیں گے۔

Comments are closed.