ویڈیو: کشمیر سمیت بھارت بھر میں سوائن فلو کا قہر، اب تک ملک بھر میں4ہزار571 سوائن فلو کے متاثرین پائے گئے،کشمیر میں10افراد لقمہ اجل:رپورٹ
سرینگر:۳۱،جنوری: کشمیر سمیت بھارت میں ’خزیری وائرس‘ (ایچ 1این 1)یعنی سوائن فلو جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔اب تک بھارت بھر میں 4ہزار571سوائن فلو کے متاثرین پائے گئے ہیں اور سب زیادہ متاثرین کی تعداد ریاست راجستھان میں پائی گئی ہے جبکہ کشمیر بھی اسکی تند ہواؤں کے قہر سے محفوظ نہ رہ سکا ،تاہم صوبہ جموں اس کے قہر سے پاک بتایا جارہا ہے ۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی )کی ایک رپورٹ کے مطابق ، اب تک بھارت بھر میں4ہزار571 سوائن فلو کے متاثرین پائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صرف راجستھان میں سب سے زیادہ40 فیصد معاملے درج کئے گئے ہیں۔ راجستھان میں ہی سب سے زیادہ72 لوگوں کی موت اس مرض کی وجہ سے ہوئی ہے ،اس کے بعد پنجاب میں26، گجرات میں20 ،مہاراشٹر میں12 ،کشمیر میں 10اور دہلی میں8 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔جموں کشمیرسمیت بھارت کی کئی ریاستوں میں سوائن فلو جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ این بی ٹی کی ایک خبر کے مطابق، دہلی میں سوائن فلو کی وجہ سے سوموار تک8 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ15 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی ) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راجستھان، گجرات ، پنجاب اور مہاراشٹر میں سوائن فلو کا سب سے زیادہ اثر ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یکم جنوری سے اب تک سال2019میں 121کیسوں کے مثبت رپورٹس آئیں جن میں 10افراد کی موت ہوگئی ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سال2018 میں کشمیر وادی میں77کیس مثبت ثابت ہوئے جن میں14افراد کی موت ہوگئی جبکہ جموں میں71کیس سامنے آئے تھے جن میں2افراد کی موت ہوگئی ۔سال2017میں کشمیر وادی میں سوائن فلو کے 140کیس سامنے آئے تھے جن میں 26افراد کی موت ہوگئی جبکہ جموں میں 77کیس مثبت سامنے آئے تھے ،جن میں 15افراد کی موت ہوگئی تھی۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی واقع رام منوہر لوہیا اسپتال نے این بی ٹی کو بتایا کہ سوائن فلو کی وجہ سے دہلی میں 8 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ خبر کے مطابق دہلی میں سوائن فلو کے تقریباً 500 معاملے سامنے آچکے ہیں۔ ایمز ، لوک نایک ، اپولو، میکس اور فورٹیس جیسے اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے مطابق گزشتہ کچھ ہفتوں میں سوائن فلو کے مشکوک اور متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔دریں اثنا این سی ڈی سی کے ڈیٹا کے مطابق ، اب تک ملک بھر میں 4571 سوائن فلو کے متاثرین پائے گئے ہیں۔ صرف راجستھان میں سب سے زیادہ40 فیصدمعاملے درج کیے گئے ہیں۔ راجستھان میں ہی سب سے زیادہ72 لوگوں کی موت اس مرض کی وجہ سے ہوئی ہے ،اس کے بعد پنجاب میں26، گجرات میں20 ،مہاراشٹر میں12 ،کشمیر میں 10اور دہلی میں8 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔سوائن فلو کے بڑھتے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے وزیر صحت جے پی نڈا نے ریاستوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور ان سے اس بیماری کے ’شروعاتی اسٹیج ‘یعنی ابتدائی مرحلہ کی پہچان کے بارے میں باتیں کی تھیں۔ ریاستی اسپتالوں میں ’بیڈ ریزرو ‘رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ 2009میںH1N1نامی وائر س کے’’ کیلفورنیاسٹرین‘‘ نے جہاں پوری دنیا میں تباہی مچائی اور ہزاروں افراد کی موت کا سبب بنا وہیں 2016میں آنے والے’ مشی گان سٹرین‘کے بارے میں بھی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہH1N1وائرس کے مشی گان سٹرین میں یہ اہلیت موجود ہے کہ تندرست انسان کو بھی موت کا مزہ چکھاسکتا ہے۔ہفت روزہ نوائے جہلم کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں2011سے لیکر ابتک68افراد کی جان لے چکا ہے جن میں 6خواتین بھی شامل ہیں۔مذکورہ رپورٹ کے مطابق جموں صوبے میں وبائی بیماریوں پر نظر گزر رکھنے والی ڈاکٹر انیلا کول نے بتایا کہ ستمبر مہینے سے لیکر ابتک جموں صوبے میں کوئی بھی سوائن فلو کی بیماری کا شکار نہیں ہوا ہے۔
Comments are closed.