جملہ صحافیوں کا بائیکاٹ،ایوان صحافت کشمیر سے نکالی احتجاجی ریلی ،صحافتی برادری برہم
معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا گیا ،سیکیورٹی کلیئر نس معاملے ،اجراء پاسز کا ازسر نو جائزہ لیا جائیگا:کے وجے کمار
سرینگر:٢٦،جنوری ؍کے این این ؍ سرینگر میں سینئر صحافیوں کو26جنوری تقریب کی ’رپورٹنگ ‘ کی اجازت نہ دینے پر سنیچر کو جملہ صحافیوں نے تقریب کا بائیکاٹ کیا ۔واقعہ کے خلاف ایوان صحافت کشمیر(پریس کلب کشمیر) سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور لالچوک تک پرامن مارچ کیا گیا ۔ادھر جملہ صحافتی برادری نے سینئرصحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض انجام دہی سے روکنے کی مذمت کی ۔اس دوران ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے مشیر، کے وجے کمار نے کہا کہ صحافیوں کو یوم جمہوریہ کی تقریب کی رپورٹنگ نہ کرنے کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا گیاجبکہ یکیورٹی کلیئرنس معاملے اور اجراء پاسز کا از سر نو جائزہ لیا جائیگا۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سرینگر میں سینئر صحافیوں کو26جنوری تقریب کی ’رپورٹنگ ‘ کی اجازت نہ دینے پر سنیچر کو جملہ صحافیوں نے تقریب کا بائیکاٹ کیا ۔صحافیوں کی جانب سے یہ بائیکاٹ بعض سینئر صحافیوں جن میں معراج الدین ،حبیب نقاش،بلال بٹ ،توسیف مصطفیٰ ،دانش اسماعیل اور دیگر صحافیوں جن میں یوسف جمیل ،اشرف وانی ،فرودس وانی ،وغیرہ شامل ہیں ،کو26جنوری تقریب کی رپورٹنگ کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا ۔صحافیوں کا کہناتھا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے جب صحافیوں کو 26جنوری تقریب کی رپورٹنگ سے روکا گیا۔انہوں نے کہا کہ سینئر صحافی بشمول فو ٹو جرنلسٹ معراج الدین (اے پی ٹی این) کو تقریب کیلئے سیکورٹی پاس فراہم نہیں کئے گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا’اس کے علاوہ کم و بیش پانچ صحافیوں کو شیر کشمیر سٹیڈیم کے اندر تقریب میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ اْن کے پاس باضابطہ سیکورٹی پاس تھے‘۔عینی شاہدین کے مطابق جو صحافی ایس کے سٹیڈیم پہنچے تھے اْنہوں نے بھی اپنے سینئر ساتھیوں کو اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے تقریب کا بائیکاٹ کیا۔یہ واقعہ صحافیوں کو شمالی کشمیر کے بارہمولہ میں جاں بحق جنگجوئوں کی آخری رسومات کی رپورٹنگ کرنے سے روکنے کے تین دن بعد پیش آیا۔اس سے قبل شوپیان میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی دینے کے دوران چار صحافیوں کو پیلٹ فائرنگ سے زخمی کردیا گیا ۔اس دوران واقعہ کے خلاف ایوان صحافت کشمیر (پریس کلب ) سے صحافیوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی ۔صحافیوںنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھاتے ہوئے لالچوک تک خاموش احتجاجی ریلی نکالی ۔اس احتجاج کا اہتمام ایوان صحافت کشمیر (پریس کلب) نے کیا تھا ۔ایوان صحافت کشمیر کے صدر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات صحافت کی آزادی پر کاری ضرب کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ سینئر صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنا قابل مذمت ہے اور گورنر انتظامیہ کو ایک سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کمشنر کشمیر کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔ادھرانجمن اردو صحافت جموں کشمیر نے سینئر صحافیوں کو 26جنوری کی تقریب میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس واقعہ کو غیر جمہوری عمل قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ انجمن اردو صحافت جموں کشمیراس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حکام کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے، جو صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکنے میں ملوث پائے جائیں۔ترجمان نے کہا کہ انجمن اردو صحافت، ریاستی گور نر سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اْن پولیس حکام کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے ، جو صحافت کی آزدی میں رکاوٹ بنتے ہیں اور جو اْنہیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکتے ہیں۔اس دوران کشمیر ایڈیٹرس گلڈ (کے ای جی) نے سنیچر کو بعض صحافیوں کو یوم جمہوریہ تقریب میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکنے کیخلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کیخلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔اس سے قبل آج صبح بعض سینئر صحافیوں کو سرینگر میں منعقدہ یوم جموریہ کی تقریب میں شامل ہونے سے روکا گیا۔ ان میں سے کچھ صحافیوں کو سیکورٹی پاس فراہم نہیں کئے گئے تھے جبکہ بعض کے پاس مذکورہ پاس ہونے کے باوجود اْنہیں شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔کے ای جی بیان کے مطابق سینئر صحافیوں کو تقریب کے مقام کے باہر ہی روکا گیا حالانکہ اْن کے پاس سیکورٹی پاس بھی تھے جو حکام کی طرف سے ہی جاری کئے تھے۔کے ای جی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حکام کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے جو صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکنے میں ملوث پائے جائیں۔کے ای جی نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ اْن پولیس حکام کیخلاف کارروائی عمل میں لائے جو پریس کی آزدی میں رکاوٹ بنتے ہیں اور جو اْنہیں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے سے روکتے ہیں۔دریں اثناء ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے مشیر، کے وجے کمار نے کہا کہ صحافیوں کو یوم جمہوریہ کی تقریب کی رپورٹنگ نہ کرنے کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا گیاجبکہ یکیورٹی کلیئرنس معاملے اور اجراء پاسز کا از سر نو جائزہ لیا جائیگا۔
Comments are closed.