ویڈیو:‌26 جنوری کے موقعے پر دی گئی ہڑتال کی کال سے پوری وادی میں ہو کا عالم

زندگی مفلوج ،سڑکیں سنسان ،بازار ویران، پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل

 

سرینگر؍26؍جنوری؍ سی این آئی مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے 26 جنوری کے موقعے پر دی گئی ہڑتال کی کال سے پوری وادی میں ہو کا عالم سڑکیں سنسان بازار ویران اور لوگ اپنے گھروں میں محصو ر ہو کر رہ گئے جس کی وجہ سے زندگی پوری طرح سے درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ پوری وادی میں کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو ٹالنے کیلئے چپے چپے پر پولیس وفورسز کو تعینات کر دیا گیا تھا اور پوری وادی میں نہ صرف مواصلاتی نظام درہم برہم کر دیا گیا بلکہ پولیس وفورسز کی موجودگی میں لوگ اپنے گھروں سے بھی باہر نہیں آئے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے 26 جنوری کو بطور یومہ سیاہ منانے کی اپیل اور ہڑتال کی کال سے پوری وادی میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تمام بازار سنسان دکھائی دے رہے تھے سڑکیں ویران پڑی ہوئی تھی مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت پوری طرح سے معطل ہو کر رہ گئی جبکہ شاہرائوں پر پولیس وفورسز کی گاڑیاں گشت کر رہی تھی ۔ ہڑتال کی کال سے پوری وادی میں زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت تعینات کر دی گئی تھی پولیس اسٹیشنوں ،فورسز کیمپوں ، اہم سرکاری عمارتوں اور شاہرائوں کے ارد گرد حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے تھے پولیس وفورسز کی موجودگی میں لوگ اپنے گھروںمیں محصو ر ہو کر رہ گئے جس کی وجہ سے کئی علاقوںمیں لوگوں کو روز مرہ کی چیزیں بھی دستیاب نہیں ہو سکیں ۔ شہر سرینگر کو پوری طرح سے فوجی چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا سونہ وار سے لے کر بٹہ مالو تک چپے چپے پر پولیس وفورسز گشت کر رہی تھی ،نمائندے کے مطابق شاہرائوں کو خار دار تاروں سے سیل کر دیا گیا تھا اور جگہ جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت بری طرح سے متاثر ہوئی ۔ علیحدگی پسند جماعتوں کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث سڑکوں سے مسافر اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل ہو کر رہ گئی بازار بند پڑے ہوئے تھے اور ہر جگہ پولیس وفورسز دکھائی دے رہی تھی جسے لوگوںمیں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اور دوپہر ایک بجے تک لوگ زیادہ تر اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ نمائندے کے مطابق وادی کے اطراف واکناف میں حریت کانفرنس کی کال کے باعث زندگی تھم سی گئی اور لوگ اپنے گھروںمیں محصور ہو کررہ گئے پوری وادی میں پولیس وفورسز کو متحرک کر دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی گڑھ گڑھ کو رونما ہونے سے پہلے ہی ٹالا جا سکے۔ ادھر مزاحمتی قیادت نے 26جنوری کو ہڑتال کی کامیابی پر لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس بات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے کہ ریاست جموںوکشمیر کے لوگ اپنے جائز مطالبے کو منوانے کیلئے متحد اور منظم ہیں اور بین الاقوامی برادری کو کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اب اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ادھر علیحدگی پسند تنظیموں نے 26جنوری کو لوگوں کی جانب سے ہڑتال کو کامیاب بنانے پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ اپنے جائز مطالبے کو منوانے کے سلسلے میں منظم اور متحد ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے 66ویں یومہ جمہوریہ کے موقعے پر ریاست کے لوگوںنے ان تقریبات سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھا اور مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے جائز حق دلانے کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔

Comments are closed.