ہماری فوج پاکستان کے اندر کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرگے گی /فوجی سربراہ

سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ناقابل قبول
پاکستان اگر دراندازوں کو اس طرف دھکیلنے کی کوششیں ترک نہیں کرے گا تو خمیازہ اُٹھانا پڑے گا

سرینگر/15جنوری: فوجی سربراہ پبن راوت نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اگرجنگجوئوں کواس پاردھکیل دینے اور سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںکی کوششوں کو ترک نہیںکرے گا تو اس کو دندان شکن جواب دیا جائے گااور ہماری فوج پاکستانی حدود میں داخل ہوکر کسی بھی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ فوجی سربراہ نے کہاکہ سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جن دراندازوں کو اس طرف دھکیل دیتا ہے ہماری فوج ان کے خلاف وادی میں موثر کارروائیاں انجام دی رہی ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق فوجی سربراہ بپن راوت نے پاکستان کودو ٹوک الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںکو بند نہیںکیا گیا تو پاکستان کو اس کا خمیازہ اُٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوںکی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر دراندازی کی کوششیں لگاتار ہورہی ہے اور پاکستان دراندازوں کو اس طرف دھکیلنے کیلئے مسلسل گولہ باری کرتا ہے اور گولہ باری کی آڑ میں ہی دراندازوں کو اس طرف دھیکیلا جارا ہے ۔انہوںنے کہا سرحدوں پر دراندازی کرنے والے جنگجوئوں کے خلاف فوج موثر کارروائی کررہی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں جو جنگجو موجود ہیں ان کے خلاف ہمارے جوان بلا خوف و خطر ثمر آور آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ آرمی ڈے کے موقعے پر فوجی سربراہ بپن راوت نے کہا ہے کہ ملک کی مغربی سرحد پرجنگجوئوں کی سرگرمیوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے سے فوج پیچھے نہیں ہٹے گی۔ سیدھے طور پر پاکستان کا نام نہیں لیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا، ’’ ہماری مغربی سرحد سے جڑا ہوا ملک شدت پسندتنظیموں کی حمایت کر رہا ہے۔ ہم انہیں کرارا جواب دے رہے ہیں‘‘۔راوت نے کہا کہ فوج مشرقی سرحد پر صورتحال کا جائزہ لیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ مشرقی سکٹر پر امن و امان برقرار رکھنے کے لئے نئے ہدایات کی پیروی کی جا رہی ہے‘‘۔قابل غور ہے کہ چند روز قبل جنرل راوت نے نامہ نگاروں کی کانفرنس میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت آنے کے بعد کافی تبدیلی آئی ہے اور ان کی باتیں اور زبان میں کافی تبدیلی دکھ رہی ہے ، لیکن جہاں تک زمینی حقیقت کی بات ہے وہ جوں کا توں برقرار ہے، اس میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ابھی بھی سرحد پر بڑی تعداد میں دہشت گرد دراندازی کی کوششوں میں ہیں اور پاکستانی فوجی انہیں دراندازی کرانے اور واپس لوٹنے کیلئے فائر کوور دیتی رہتی ہے۔جس کی وجہ سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے۔یاد رہے کہ ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین سرحدوں پر جاری کشیدگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اورآئے روز دونوں جانب جدید ہتھیاروںکو استعمال کرتے ہوئے دونوں طرف فوجی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔

Comments are closed.