رواں سال کے دوران جنگجو مخالف آپریشن کے دوران کتنے رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے: سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن

چیف سیکریٹری ، ڈویژنل کمشنر کشمیر اور ہوم سیکریٹری اس سلسلے میں مفصل رپورٹ پیش کریں

سرینگر؍19 دسمبر: سٹیٹ ہیومن رائٹس کے ڈویژن بینچ نے چیف سیکریٹری کے نام نوٹس اجرا کرتے ہوئے رواں سال کے دوران جنگجومخالف آپریشنز کے دوران رہائشی مکانات کو ہوئے نقصان کے بارے میں مفصل رپورٹ کمیشن میں پیش کرئے۔ معلو م ہوا ہے کہ ڈویژنل کمشنر کشمیر کے ساتھ ساتھ ہوم سیکریٹری کے نام بھی الگ الگ نوٹسیں اجرا کی گئی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق مفاد عامہ کے تحت ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن میں سماجی کارکن نے رٹ پٹیشن دائر کی جس میں بتایا گیا کہ جنگجو مخالف آپریشنز کے دوران سیکورٹی فورسز کے اہلکار بارود سے رہائشی مکانات کو اُڑا رہے ہیں جس کے نتیجے میں مکین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے ڈویژن بینچ دلشاد شاہین اور عبدالحمید میر نے چیف سیکریٹری ، ڈویژنل کمشنر کشمیر اور ہوم سیکریٹری کے نام نوٹسیں اجرا کرتے ہوئے اس سلسلے میں مفصل رپورٹ کمیشن میں پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ ڈویژن بینچ نے کہاکہ چیف سیکریٹری کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں تمام آفیسران سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ میٹنگ کرکے اس سلسلے میں مکمل رپورٹ ترتیب دے کہ رواں سال کے دوران جھڑپوں کے دوران کتنے رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ سیکورتی فورسز کے اہلکار جھڑپوں کے دوران عام شہریوں کے مکانات کی بھی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگ خوف ودہشت کا شکار ہو چکے ہیں۔ درخواست گزار نے کمیشن کو بتایا کہ رواں سال کے دوران جتنے بھی انکاونٹر ہوئے رہائشی مکانات میں موجود جنگجوؤں کو جاں بحق کرنے کیلئے آئی ای ڈی کا استعمال کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جس گھر میں جنگجو چھپے ہوتے ہیں مکینوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں آشیانوں سے محروم کیا جارہا ہے۔

Comments are closed.