بجبہاڑہ جھڑپ میں جاں بحق لشکر کا ضلع کمانڈر پلوامہ آبائی علاقے میں سپرد خاک

سات مرتبہ نماز جنازہ ادا ، ہڑتال اور بندشوں کے بیچ تجہیز و تکفین میں سروں کا سیلاب اُمڈ آیا

سرینگر/24نومبر/سی این آئی/ سات مرتبہ نمازجنازوں کی ادائیگی اور مکمل ہڑتال کے بیچ بجبہاڑہ جھڑپ میں جاں بحق ہوئے پلوامہ کے لشکر کمانڈر کو سنیچروار کی صبح اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔سی این آئی کے مطابق شالہ گنڈ بجبہاڑہ اننت ناگ میں جمعہ کی اعلیٰ صبح خونین معرکہ آرائی کے دوران 6مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت آزاد ملک عرف دادا ساکنہ آرونی ،باسط احمد میر ساکنہ کھنہ بل اننت ناگ،انیس شفیع ساکنہ تکیہ بل بجبہاڑہ ،عاقب احمد ساکنہ واگہامہ بجبہاڑہ ،فردوس احمد ساکنہ مچھ پونہ پلوامہ اور شاہد احمد ساکنہ کاونی ڈوگری پورہ اونتی پورہ کے طور ہوئی ہے۔ جاں بحق چھ جنگجوئوں میں سے تین اعلیٰ کمانڈر تھے جبکہ چھ جنگجوئوں میں سے پانچ کو جمعہ کی شام ہی آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا تاہم پلوامہ سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے ضلع کمانڈر کو سنیچروار کی صبح آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ سنیچروار کی شام دیر گئے لشکر کمانڈر ،فردوس احمد ساکنہ مچھ پونہ پلوامہ کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی جس دوران کئی مرتبہ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ مہلوک جنگجو کو سنیچروار کی صبح سپرد خاک کیا جائے گا ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے بیچ پلوامہ کے درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجو کے آبائی علاقے کا رخ کیا جس دوران سنیچروار کی صبح قریب 11بجکر 30منٹ پر لشکر کمانڈر کا نماز جنازہ ادا کیا گیا ۔عین شاہدین کے مطابق لوگوں کی بھاری تعداد کے پیش نظر سات مرتبہ نما ز جنازہ ادا کیا گیا ،۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کے نماز جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد انہیں اپنے آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جاں بحق جنگجوئوں کے یاد میں جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہے ۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوئوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے کئی جنگجوئوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران عسکریت پسندوں کو سلامی بھی دی گئی ۔ تاہم پولیس ذرائع نے اس سلسلے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ۔

Comments are closed.