ویڈیو:کھڈونی کولگام کی دوشیزہ اور چھتر گام بڈگام کا نوجوان اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئے
آبائی علاقوں میں کہرام ،اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کے بیچ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک
سرینگر/24نومبر: جنوبی ضلع کولگام کے کھڈونی علاقے میں تین روز قبل فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کے تبادلے میں زخمی ہونی والی دوشیزہ سرینگر کے صدر اسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گئی ۔ ادھر چھتر گام چاڈورہ علاقے میں بھی جمعہ کی شام فائرنگ میں زخمی ہونے والا نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ سنیچروار کی صبح جونہی دوشیزہ اور نوجوان کی نعشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو وہاں صف ماتم بچھ گئی ۔ سی این آئی کے مطابق کولگام کے کھڈونی علاقے میں سنیچروار کی صبح اس وقت کہرام مچ گیا جب گزشتہ دنوں فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئی دوشیزہ سرینگر کے صدر اسپتال میں دم توڑ بیٹھی ۔ قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی صبح کھڈونی کولگام علاقے میں زراعی یونیورسٹی کے نزدیک فوجی کیمپ میں اس وقت سنسنی پھیل گئی تھی جب جنگجوئوں نے کیمپ پر حملہ کرکے فائرنگ کی ۔ طرفین کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں ایک دوشیزہ جس کی شناخت مسکان جان ساکنہ وان گنڈ کھڈونی کے بطورزخمی ہو گئی تھی جس کے بعد مذکورہ دوشیزہ کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا ۔صدر اسپتال سرینگر میں قریب تین دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد مسکان جان نامی دوشیزہ سنیچروار کی اعلیٰ صبح زندگی کی جنگ ہار گئی ۔ ڈاکٹروں کے مطابق مسکان جان کوما میں چلی گئی تھی جس کے بعد ان کا آپریشن عمل میں لایا گیا تاہم وہ زندگی کی جنگ ہار گئی ۔ ادھر چھتر گام کھندا علاقے میں بھی اعلیٰ صبح اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب گزشتہ شام فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والا نوجوان اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔مقامی ذرائع کے مطابق 28سالہ نوجوان نظیر احمد گنائی ساکنہ ماگرے پور ہ چھتر گام کو جمعہ کی شام اس وقت زخمی ہو گیا جب فورسز نے اس پر گولیاں چلائی تاہم فوج کا کہنا تھا کہ نظیر احمد کو کیمپ سے قریب پانچ سو میٹر کی دوری پر جنگجوئوں نے گولیاں مار دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا ۔ زخمی نوجوان کو اگرچہ علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے سکمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ سنیچروار کی اعلیٰ صبح قریب 4بجے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ ادھر جونہی دوشیزہ اور نوجوان کی نعشوں کو آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو وہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی جس دوران سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اسی دوران دونوں کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔
Comments are closed.