عیدالاضحی کے پیش نظر قیمتوں میں زبردست اضافہ ۔ بیکری اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی قیمتوں پر بھی حکام کا کوئی کنٹرول نہیں

سرینگر//عید الاضحی کے مقدس موقعہ پر قصابوں، بیکری فروشوں اور دیگر دکانداروں نے صارفین کو دو دو ہاتھوں لوٹنے میں کوئی عار محسوس نہ کی۔ ادھر ریڈی میڈ گارمنٹس سبزیوں اورکپڑوں کے علاوہ دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں پر بھی حکام کا کوئی کنٹرول نہیں رہا۔سی این ایس کو ملی تفصیلات کے مطابق برصغیر کے بیشتر ممالک کے ساتھ ساتھ ریاست جموں وکشمیر میں بھی عید الاضحی کی تقریب آ ج روایتی عزت واحترام کے ساتھ منائی جارہی ہے ۔اس موقعہ پر گراں فراشوں اور دیگر غذائی اجناس فروشوں نے صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے میں کوئی عار محسوس نہ کی ۔ محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری کی طرف سے گوشت کی قیمت مقرر کرنے کے باوجود قصابوں نے من مانی نرخوں کے تحت گوشت فروخت کیااور تلخ حقیقت عین عید الاضحی کے موقعہ پر سامنے آرہی ہے۔ شہر سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں سے ملی تفصیلات کے مطابق قصاب سبزی اور بیکری فروشوں نے من مانے طور قیمتوں میں اضافہ کردیااور محکمہ امور صارفین اس لوٹ کھسوٹ پر روک لگانے میں بُری طرح ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ عید الاضحی کے موقعہ پر سبزی فروشوں ، نانوائیوں اور بیکری فروشوں سمیت دیگر غذائی اجناس کے کاروبار سے جڑے دکانداروں نے مٹھائی بیکری اور دودھ کے مختلف اقسام کی من مانی قیمتیں مقرر کردی ہیں اور لوگوں کو دو دو ہاتھوں لوٹ گئے عوامی حلقوں میں اس بات کو لے کر سخت ناراضگی اور غم وغصہ پایا جاتا ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ریاستی سرکار اور متعلقہ لوگوں کے روز مرہ مسائل ومشکلات کا سدباب کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ اس معاملے کے بارے میں سی این ایس نے محکمہ امور صارفین وتقسیم کاری کے سینئر آفیسر کے ساتھ فون پر رابطہ قائم کیا تو مذکورہ آفیسر نے اس بارے میں یہ کہہ کر رائے زنی کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ انتظامیہ میں اس معاملے کو پہلے ہی سرنڈر کرچکے ہیں تو باقی افسران یا اہلکاروں کی کیا بساط کہ وہ اس معاملے پر کوئی بیان دیں۔ ادھر محکمہ امور صارفین کے اندرونی ذرائع نے سی این ایس کو بتایا کہ گوشت اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہورہے بے تحاشا اضافے کے لئے ریاستی انتظامیہ ذمہ دار ہے کیونکہ یہاں کچھ افراد اور ذمہ دار کوٹھداروں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ سبزیوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کے بارے میں سی این ایس نے محکمہ امور صارفین کی ذمہ داری نہیں کہ وہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کا ٹھیکہ لے کیونکہ محکمہ ناپ تول کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً بازاروں میں فروخت کی جارہی غذائی جناس کی قیمتوں اور ان کے معیار پر نظر گذر رکھے ۔ بھاری رش کی وجہ سے ٹریفک اہلکاروں کو شہر سرینگر اور دیگر اہم شہراوں پر ٹریفک جام پر قابو پانے کیلئے تعینات کیا گیا تھا ۔ تاہم شہر سرینگر میں ٹریفک جام کے کئی مناظر دیکھنے کو ملیں ۔ سٹی رپورٹر کے مطابق خواتین کی خریداری کا مشہور بازی گنی کھن میں آج خواتین کی بڑی تعداد دن بھر دیکھنے کی ملیں جنہوں نے کپڑوں کے علاوہ ہوزری دکانوں پر لاکھوں روپے کی خریداری کی۔ جبکہ زیورات کا مشہور صرافہ بازی ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں دن بھر لوگوں کا اژدام دیکھنے کو ملا جنہوں نے نئے ازواجی زندگی سے جڑے اپنے رشتہ داروں کے لئے لاکھوں روپے مالیت کے سونے کے زیورات خرید لئے۔ اس دوران بنکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر لوگوں کی بڑی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ سی این کو شہر سرینگر کے عیدگاہ ، اقبال پارک اور صفاکدل اور بالائی علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی خریداری کے مناظر بھی دیکھنے کو ملیں۔ اب چونکہ دیکھنا یہ ہے کہ کہ دن بھر کروڑوں روپے مالیت کے خریداروں کے بعد عید الاضحی کے موقعہ پرلوگ اپنے ماضی کے نسبت مستقبل میں سدھار اور نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔ کیا یہاں کا عوام پیٹ بھر لذیز پکوانوں سے عید کو مانتے اور مناتے ہیں یا ان لوگوں کی قربانی بھی یاد کرینگے جو گذشتہ 25برسوں سے علیحدگی پسند تحریک کے دوران اپنی عصمت ، مال او رجان سے ہاتھ دھو بیٹھ کر دانے دانے کے محتاج بن گئے ہیں۔

Comments are closed.