ایس ڈی ایچ سوپور میں ڈاکٹر ہی نوزائیدہ بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اسپتال میں سکریننگ کا کوئی عمل نہیں، بچوں کو ایسے ہی والدین کے سپرد کیا جاتا ہے

سرینگر// سب ڈسٹرک اسپتال سوپور میں ماہر امراض اطفال ہی نوزائیدہ بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں ۔ ماہرین امراض کے مطابق نوزائیدہ بچے کی اسکریننگ ایک لازم امر ہے جو خون ، سماعت اور حرکت قلب اور ان سے جڑی مختلف بیماریوں کی جانچ کے سلسلے میں کی جاتی ہے ۔ اسپتال کے طریقہ کار کے مطابق ہرنو زائدہ بچے کا سکریننگ ٹیسٹ ہونا ضروری ہے خواہ بچہ ظاہراً صحت مند کیوں نہ دکھتا ہو،تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ مذکورہ اسپتال میں اکثرو بیشتر سکریننگ ٹیسٹ کا عمل انجام نہیں دیا جاتا ہے۔اس طرح سے نوزائیدہ بچے کی زندگی خطرے میں ڈالی جاتی ہے۔تعمیل ارشاد سے بات کرتے ہوئے ایک نوزائیدہ بچے کے والد نے بتایا کہ اسپتال میں تعینات ماہر امراض اطفال وہاں اکثر وہاں موجود نہیں ہوتے اور اگر ڈھونڈنے سے مل بھی جاتے ہے تو محض رسمی طور پر بچے کو دیکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں پہ تعئنات ڈاکٹر سنجیدگی سے بچے کا معالجہ نہیں کرتے ہے۔ مذکورہ والد نے تعمیل ارشاد کو بتایا’’ 12 اگست کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں ہمارے بچے کی پیدائش ہوئی جس کے فوراً بعد بچے کو والدین کے سپرد کیا گیا۔ میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ کسی بھی سکریننگ ٹیسٹ کے بغیر بچے کو ہمارے سپرد کیا گیا جس کے بعد میں نے خود بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوائے ۔ کئی دفعہ وہاں پہ تعئنات نرسوں سے سکریننگ کے بارے میں اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ اسکریننگ ڈاکٹر سہیل نائک کرتے ہیں۔ دو دن مسلسل مذکورہ ڈاکٹر کی تلاش کی جو وہاں پہ موجود نہیں تھا ۔تیسرے دن مذکورہ ڈاکٹر ملا تو میں نے انہیں بچے کو دیکھنے کے لئے کہا کیونکہ مجھے یرقان (جونڈس) کی نشانیاں دکھ رہی تھیں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ جب انہوں بچے کو دیکھا تو ٹیسٹ کرنے کے بجائے ایسے ہی بولا بچہ ٹھیک ہے اور وہاں سے چلا گیا‘‘ مذکورہ والد نے تعمیل ارشاد کو بتایا کہ 14اور15اگست کی درمیانی رات کو بچے کی طبیعت مزید خراب ہوگئی تاہم وہاں پہ کوئی پیڈڑریشن (Paediatricians) موجود نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے روز بھی ہڑتال کی وجہ سے کوئی پیڈڑریشن موجود نہیں تھااور عبدالصمد نامی ایک ملازم وہاں پہ تعئنات تھا نے سوالیہ انداز میں کہا ان سے کہا کہ کیا ہڑتال کے دن بھی ڈاکٹر آئینگے؟؟ نوزائد بچے کے والد نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا’’ یہ سب ہونے کے بعد جب ہم نے بچے کو ایمرجنسی کیجولٹی میں ڈاکٹر کو دکھا یا تو وہاں پہ موجود مبشر نامی ڈاکٹر نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہ ماہر اطفال نہیں ہے ۔ ڈاکٹر مبشر نے کہا کہ اس کو پیڈیٹرشن کے پاس لے جاو کیوں کہ اگر کچھ ہوگیا تو آپ لوگ بعد میں ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج کرتے ہو‘‘ (یہاں یہ بات قابل ذکر ہے اس سے مراد حالیہ دنوں ہوئی بچے کی موت سے ہے جو حالیہ دنوں ہی واقع ہوئی ۔ اس بچے کی حالت دوران پیدائش اسی اسپتال میں ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی تھی جس کے بعد وہ بچہ جی بی پنت ریفر کیا گیا جہاں وہ دم توڑ بیٹھا)۔ والد کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے کیجولٹی میں ڈاکٹر کو مزید اصرار کیا کیونکہ انکے بچے کی طبیعت خراب ہوتی جارہی تھی۔ تاہم اصرار کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے کچھ ایمرجنسی ادویاد ت دے دی۔ 17اگست کو جب بچے کی طبیعت پھر سے بگڑ گئی تو شام کو مذکورہ والدین پھر سے ایس ڈی ایچ سوپور میں بچے کو لیکر گئے لیکن وہاں پہ پھر سے کوئی پیڈیٹرشن موجود نہیں تھا۔ یہ سب دیکھ کر والدین کافی پریشان ہوگئے اور مجبوراً انہیں ضلع اسپتال بارہمولہ کا رخ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق وہاں پہ موجود لیڈی ڈاکٹرشافیہ نے بچے کا میڈکل معائنہ کیا اور کہا کہ بچے کو ازحد یرقان (جونڈس) ہے ، جس کے بعد انہوں نے بچے کو اسپتال میں ایڈمٹ کیا جہاں بچہ زیر علاج ہے۔ ڈاکٹر شافیہ یہ سن کر حیران رہ گئی کہ بچے کا کس بنا پہ اسکریننگ ٹیسٹ نہیں کیا گیا ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ،ڈاکٹر سہیل نائک نامی مذکورہ پیڈیٹرشن اسپتال سے کچھ ہی منٹ کی دوری پہ ایک نجی کلنک چلاتے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے تعمیل ارشاد کو بتایا کہ اسپتال میں ان کے اکثر و بیشتر غائب رہنے کی وجہ یہی نجی کلنک ہیں جہاں پہ وہ نو زائد بچوں کا معالجہ کرتا ہے ۔ اس بارے میں جب بلاک میڈکل آفیسرڈاکٹر سمیع سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں متعلقہ ڈاکٹر سے بات کریں گے۔

Comments are closed.