جنوبی کشمیر میں چھاپے ،گرفتاریاں ،احتجاج ،توڑ پھوڑ کا الزام

جنوبی کشمیر :ترال میں فورسز نے شبانہ چھاپو ں کے دوران 2مقامی نوجوانوں کوگرفتار کر کے نا معلوم جگہ پر پہنچادیا ہے جس کے خلاف مقامی آبادی نے علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے کر کے نوجوانواں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر گرفتاریوں کے خلاف قصبہ میں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔

کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق جنوبی کشمیر کے سب ڈسٹرکٹ ترال میں میں فورسز نے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب کو شبانہ چھاپوں کے دوران ہلال احمد دوبی اور ارشاد احمد ملہ ساکنان ترال بالاکو دو الگ الگ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران گرفتار کر کے بند کیا ہے ۔

جہاں مقامی آبادی جن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی نے سوموار کے صبح سڑکوں پر نکل کرگرفتاریوں کے خلاف زبردست احتجاج کر کے ’آب گھر‘ترال بالا کے نذدیک احتجاجی دھرنادے کر گرفتار شدہ نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔

ادھر احتجاج کی وجہ سے قصبے میں مکمل ہے اس دوران ایس ایس پی اونتی پورہ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ارشاد احمد ملہ ایس پی اوز اور سیاسی لیڈران کو کو ڈرانے اور دھمکانے کے علاوہ علاقے میں دھمکی آمیز پوسٹر چسپاں کرنے میں ماسٹر مائند ہے، اسی لئے اسکی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے، تاہم دوسرے نوجوان کے بارے میں فی الحال معلوم نہیں ہوا کہ انہیں کن وجوہات کی بنا پر گرتتار کیا گیا ہے ۔ادھر مقامی لوگوںنے گرفتار نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں بے قصور قرار دیا ہے۔

نیوا پلوامہ میں مبینہ فورسز زیادتیاں
نیوا پلوامہ میں مبینہ طورپر فوجی اہلکاروں کی جانب سے دکانداروں کی مارپیٹ کے خلاف مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم۔

ریڈونی بالا کولگام میں فوجی کیمپ کی منتقلی کے خلاف تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرئے ۔ نیوا پلوامہ کے لوگوں نے الزام لگایا کہ فوجی اہلکاروں نے دکانداروں کی ہڈی پسلی ایک کرکے انہیں لہولہان کیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق فوج کی گاڑیوں پر شر پسند عناصر نے پتھراو کیا جس دوران فورسز اہلکاروں گاڑیوں سے نیچے اُترے اور جوکوئی بھی راستے میں آیا اُس کی ہڈی پسلی ایک کردی جبکہ دکانداروں کا سامان بھی تہس نہیں کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے فورسز زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران نیوا پلوامہ میں سوموار کے روز مکمل ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کررہ گئی ۔

دفاعی ذرائع نے مقامی لوگوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا اور فورسز پر لگائے جانے والے الزامات حقیقت سے بعید ہے۔ ادھر ریڈونی بالا کولگام میں پنچایت گھر کے صحن میں فوجی کیمپ تعمیر کرنے پر علاقے میں تیسرے روز بھی ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کررہ گئی ۔

لوگوں نے تیسرے روز بھی کولگام اننت ناگ شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ فورسز اہلکار راہگیروں کی مارپیٹ کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق جب تک نہ فوجی کیمپ کو علاقے سے نہیں ہٹایا جاتا تب تک احتجاجی مظاہرئے جاری رہیں گے۔

Comments are closed.