کرگل میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا اتحاد
نیشنل کانفرنس کے فیروز خان بلامقابلہ چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر منتخب
کرگل ، (یو ا ین آئی) نیشنل کانفرنس نے خطہ لداخ کے ضلع کرگل میں کانگریس سے اتحاد کرکے چوتھی لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل تشکیل دے دی ہے۔ پیر کے روز یہاں بارو ہال کرگل میں منعقد ہونے والی تقریب میں نیشنل کانفرنس لیڈر فیروز احمد خان کو بلامقابلہ نئی کونسل کا چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر منتخب کرلیا گیا۔ وہ پہاڑی ترقیاتی کونسل (کرگل) کے ساتویں چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسلر بن گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تقریب میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے کونسلروں نے فیروز خان کا نام تجویز کیا جس کے بعد انہیں بلامقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ این سی اور کانگریس کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق چیئرمین و چیف ایگزیکٹو کونسل کا عہدہ نیشنل کانفرنس کے پاس رہے گا جبکہ کونسل میں دونوں جماعتوں کے دو ایگزیکٹو کونسلر ہوں گے۔
تاہم دونوں جماعتوں کی طرف سے ایگزیکٹو کونسلروں کا اعلان کیا جانا ابھی باقی ہے۔ لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے کونسلروں کی تعداد بالترتیب 10 اور 8 ہے۔ ذرائع نے بتایا ’این سی اور کانگریس کے سینئر لیڈران بشمول فیروز خان ، ضلع صدر این سی حاجی حنیفہ جان اور ضلع صدر کانگریس ذاکر حسین کے درمیان گذشتہ روز ایک اہم میٹنگ ہوئی جس میں معاہدے کو حتمی شکل دی گئی‘۔ فیروز خان نے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین منتخب کئے جانے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان اتحاد ناگزیز بن گیا تھا۔
انہوں نے کہا ’کونسل کے انتخابات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی۔ اس وجہ سے یہ اتحاد ناگزیر بن گیا تھا۔ استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں اتحاد کرنا پڑا ہے۔ ہمیں ماضی میں تلخ تجربہ ہوا ہے۔ استحکام کے بغیر ترقی کو یقینی بنانا ناممکن ہے‘۔ فیروز خان نے کہا کہ این سی اور کانگریس کے درمیان اتحاد کا فیصلہ دونوں جماعتوں کی ہائی کمان کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ’این سی اور کانگریس نے چھ سال تک مخلوط حکومت چلائی ہے۔ آئندہ بھی دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد ہوسکتا ہے۔ دونوں جماعتوں کی ہائی کمان کو اعتماد میں لیتے ہوئے ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ہم آپسی اتحاد کرکے کونسل تشکیل دیں گے۔ ہم نے یہ فیصلہ کرگل کی ترقی کے لئے لیا ہے۔ ہم یہاں اس مستحکم کونسل سے ترقی کو ضرور یقینی بنائیں گے‘۔
فیروز خان نے بلامقابلہ چیئرمین منتخب کئے جانے پر تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے کونسلروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں بلامقابلہ چیئرمین منتخب کئے جانے کے لئے تمام جماعتوں نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی ، بی جے پی اور تمام آزاد امیدواروں کا نہایت ہی مشکور و ممنون ہوں۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کرکے مجھے بلامقابلہ منتخب کیا ہے۔
میں اپنی اتحادی جماعت کانگریس کے کونسلروں کا بہت شکر گذار ہوں‘۔ فیروز خان سابقہ نیشنل کانفرنس۔ کانگریس مخلوط حکومت میں وزیر مملکت بھی رہے ہیں جب وہ ایم ایل اے زنسکار تھے۔ خیال رہے کہ 27اگست کو کونسل کے انتخابات ہوئے تھے اور نتائج کا اعلان31اگست کو کیاگیاتھا جس میں نیشنل کانفرنس کو10، کانگریس کو8، آزاد امیدوار5، پی ڈی پی کو2اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نشست پر کامیابی ملی تھی ۔
30رکنی کونسل میں سے 26نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے جبکہ چار ممبران حکومت کی طرف سے نامزد کئے جانے ہیں۔ بتادیں کہ جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی میں 26 ستمبر کو منعقد ہونے والے اجلاس میں لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل ترمیمی بل 2018کے مسودے کو منظور ی دی گئی۔ اس بل کے ذریعہ لیہہ او رکرگل کی ان ترقیاتی کونسلوں کو مزید بااختیار بنانا گیا ہے ۔
ترمیمی بل 2018کے مسودے سے ایل اے ایچ ڈی سی کو مزید اختیارات حاصل ہوگئے جن کی مدد سے کونسل ٹیکس عائد اور جمع کرسکتی ہیں۔اس کے علاوہ کونسلوں کو مختلف محکموں کا انتظام چلانے کے تعلق سے بھی مزید اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔
Comments are closed.