NC اورPDP کی طرف سے مشترکہ سرکار تشکیل دینے کی قیاس آرائیاں

سری نگر : آئین ہند کی دفعہ35ائے کے دفاع کیلئے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی طرف سے مشترکہ سرکار تشکیل دینے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے سابق وزیر اور پی ڈی پی کے سنیئر لیڈر سید الطاف بخاری نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی بات چیت کا ردعمل بدقسمی اور حوصلہ شکن ہے۔

سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے آرٹیکل35ائے کی دفاع کیلئے علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو سرکار تشکیل دینے کی سرہان کرتے ہوئے سابق وزیر نے کہا” سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے دفعہ370اورآرٹیکل35ائے کا فرقہ پرستوں سے دفاع کیلئے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو سرکار بنانے کی تجویز کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

سید الطاف بخاری نے تاہم اس بات کی وضاحت کی دفعہ35Aاور 370کا دفاع کرنے کیلئے دونوں علاقائی جماعتوں کی طرف سے سرکار کی تشکیل کیلئے شراکت انکی اپنی رائے ہے نہ کی انکی جماعت کی۔ انہوں نے اس دوران جمعرات کو ایک نوجوان کی ہلاکت کی مزمت کرتے ہوئے کہا”نوجوان کا بے ہماقنہ قتل کیا گیا“۔ سید الطاف بخاری نے مرکزی سرکار کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی بات چیت کے ردعمل کو بدقسمی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کا مقام ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کی پیشکش کا جواب موجودہ مرکزی سرکار نے ٹھیک طرح سے نہیں دہا گیا۔

مشترکہ طور پر لڑنے کیلئے تیار: میاں الطاف احمد
آئین ہند کی شق35ائے کا فرقہ پرستوں سے دفاع کیلئے پی ڈی پی کے ساتھ مشترکہ طور پر لڑنے کیلئے تیار رہنے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سنیئر لیڈر اور سابق وزیر میاں الطاف احمد نے کہا کہ پی دی پی کے ساتھ حکومت سازی کا فیصلہ عمر عبداللہ ہی لئے سکتے ہیں۔

سیول سوسائٹی کارڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو دفعہ35A کی فرقہ پرست عناصر سے دفاع کیلئے مشترکہ طور پر عبوری حکومت تشکیل دینے اور پی ڈی پی لیڈر سید الطاف بخاری کی اس تجویز کا خیرمقدم کرنے پر رد عمل طاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آرٹیکل35ائے اور فرقہ پرستی کے رجحان میں اضافے کیلئے پی ڈی پی کے ساتھ مشترکہ طور پر لڑنے کیلئے تیار ہے،تاہم اس سلسلے میں عمر عبداللہ ہی فیصلہ لینے کے مجاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ حکومت سازی اور اتحاد بنان آسان کام نہیں ہے،بلکہ ریاست کے موجودہ سیاسی صورتحال کو مد نظر رکھنے ہوئے کار درد ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لئے صرف عمر عبداللہ ہی پی ڈی پی کے ساتھ آرٹیکل35ائے یا فرقہ پرستوں سے لڑنے کیلئے حکومت بنانے پر بات کر سکتے ہیں

سید الطاف بخاری کا بیان خواب دیکھنے کے مترادف: عابد انصاری
پی ڈی پی لیڈر سید الطاف بخاری کی طرف سے حکومت سازی پر دئیے گئے بیان کا ردعمل طاہر کرتے ہوئے ممبر اسمبلی جڈی بل عابد انصاری نے کہا کہ سید الطاف بخاری حقیقت سے دور عجوبوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

عابد انصاری نے اپنے بیان میں عابد انصاری نے بخاری کو مشورہ دیا کہ وہ دن میں خوب دیکھنے سے قبل حساب کتاب بھی ٹھیک کر لئے اور اعداد شمار پر جائے۔ان کا کہنا تھا کہ الطاف بخاری کو دن میں خوب دیکھنے کا جمہوری حق ہے،تاہم انہیں یہ یاد رکھنا چاہے کہ15 سے زیادہ ممبران اسمبلی آپسی رابطے میں ہے اور وہ کشمیری عوام کے ساتھ ایک اور دھوکہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

عابد انساری نے کہا کہ2014کے انتخابات کے دوران پی ڈی پی نئے بی جے پی کو اییک بھوت کی طرح پیش کیا اور لوگوں کو انہیں رکنے کی اپیل کی،تاہم بعد مین بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائی گئی اور اپنے فیصلے کو اقتدار کے لئے فروخت کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مفتی خاندان اور پی ڈی پی کیلئے بی جے پی اچھوت ہے،جب وہ اقتدار سے باہر ہو،اور جب ان کے ساتھ اقتدار مین ہو تو یہی بی جے پی مقدس ہے::۔کے این ایس

Comments are closed.