عمر عبداللہ کا کرگل میں اجلاس سے خطاب، کھلسی میں پارٹی دفتر کا افتتاح
سرینگر:نیشنل کانفرنس نے روز اول سے ہی ریاست کی وحدت، انفرادیت ، اتحاد ، بھائی چارے ،تینوں خطوں کے تشخص اور تہذیب و تمدن کی مشعل کو فروزان رکھنے کیلئے عملاً کام کیا ہے اور یہ جماعت آج بھی اپنے ان سنہری اصولوں پر کاربند ہے۔ نیشنل کانفرنس واحد ایسی عوامی نمائندہ جماعت ہے جس کی آبیاری یہاں کے تینوں خطوں کے عوام نے کی ہے اور اس جماعت نے ہمیشہ تینوں خطوں کے عوام کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک روا رکھا۔
ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے 7روزہ کرگل اور لداخ کے دورے کے دوران کرگل میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران قمر علی آخون، فیروز احمد خان، ضلع صدر حاجی حنیفہ جان، نومنتخب کرگل ہل کونسل کے ممبران بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میں کرگل ہل کونسل انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو سب سے بڑی جماعت بنانے پر کرگل کے عوام کا تہیہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور عہدیداران اور کارکنان کی محنت اور مشقت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے نومنتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی اُمیدورں پر کھرا اُترنے کیلئے تن دہی اور لگن سے کام کریں۔ پسماندہ اور غریب طبقوں کی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کے پارٹی کے موقف کو دہراتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ تمام منتخب کونسلر تن دہی اور لگن کیساتھ کام کریں گے۔ انہوں نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ہر حال میں خود کو عوام کیلئے وقف رکھیں۔ آج کھلسی پہنچنے پر عمر عبداللہ نے وہاں پارٹی دفتر کا افتتاح کیا اور عوامی وفود سے بھی ملے۔
اس موقعے پر ضلع صدر لداخ شلو ونگدن اور دیگر عہدیداران بھی تھے۔ لوگوں نے پانی کی قلت اور ڈگری کالج نہ ہونے اور دیگر مسائل اُجاگر کئے۔ عمر عبداللہ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ معاملات اُٹھا کر ترجیحی بنیادوں پر ان کا سدباب کرانے کی کوشش کریں گے۔ کھلسی میں پارٹی دفتر کے افتتاح کے موقعے پر عہدیداروں اور کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سابق بھاجپا اور پی ڈی پی حکومت نے لوگوں کے جذبات کے ساتھ استحصال کیا اور عوام کی خوشحالی اور ریاست کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں کیابلکہ یہ دونوں جماعتیں مل یہاں ریاست کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی مرتکب ہوئیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے خطہ لداخ کو ہر ایک معاملے میں نظرانداز کر رکھا ہے، 2015کے ابتداءمیں حکومت کی تبدیلی کے بعد خطہ لداخ میں کہیں بھی کوئی نیا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا ہے۔یہاں جو بھی پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں یا تعمیر ہوکر مکمل ہوئے ہیں وہ سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران شروع کئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ خطہ لداخ کیلئے جو کام میری حکومت کے دوران ہوا اس کا مشاہدہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔
Comments are closed.