بند پڑے راستوں کو کھولنا اور لوگوں کے درمیان میل ملاپ قائم کرنا میرا مشن /وزیر اعلیٰ
آر پار لوگوں کے درمیان جذباتی وابستگی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا /مظفر آبادی وفد
سرینگر/ 04اگست/ بندپڑے تاریخی شاہراہوں کو کھولنے اور آر پار لوگو کے درمیان میل ملاپ بڑھانے کو اپنا مشن قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نا مساعد حالا ت کی وجہ سے بھارت پاکستان کے مابین تلخیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اگر اس صورتحال سے باہر نکلنا ہے تو اہم نوعیت کے اقدامات اٹھانے ہی ہونگے ، اس موقعے پر مظفر آباد اور اس کے ملحقہ علاقوں سے آئے ہوئے وزیر اعلیٰ کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بند پڑے شاہراہوں کو کھولنے سے اعتماد سازی بحال ہوگی اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقعہ بھی فراہم ہو گا ۔ اے پی آئی کے مطابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بند پڑے تاریخی شاہراہوں کو کھولنے اور آر پار ریاست کے لوگوں کے مابین میل ملاپ کو بڑھانے کے اپنے مشن کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطے کی صورتحال کو اگر تبدیل کرنا ہے تو تارریخی نوعیت کے اقدامات اٹھا نے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جا نی چاہیے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آر پار رہنے والے لوگوں کے درمیان جذباتی رشتے ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے اور رشتوں کو جوڑنے ، حالات کو بہتر بنانے اور اعتماد سازی کو بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھا نے میں کوئی بھی کسر باقی نہیں چھوڑنی ہوگی ، ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور بین الاقوامی سطح پر انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ملنی چاہیے جسے خطے میں امن لوٹ آئیگا اور بھارت پاکستان کے مابین دہائیوں سے جو تلخیاں پائی جا رہی ہیں وہ دور ہو سکے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بند پڑے راستوں کو کھولنا ،آر پار لوگوں کے درمیان میل ملاپ قائم کرنا میرا مشن ہے اور بھارت پاکستان کے درمیان پل بننا پی ڈی پی کا ایجنڈا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ تعمیری نوعیت کے اقدامات اٹھا نے سے خطے کی صورتحال یکسر بدل جائیگی اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم ہو گا ۔ اس موقعے پر مظفر آباد سے آئے ہوئے وفد نے وزیر اعلیٰ کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں سے آر پار جموں و کشمیر کے لوگ منقطع پڑے ہوئے ہیں ، رشتوں کو جوڑنے ،اعتماد سازی کو بحال کرنے اور ابتر صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان تاریخی شاہراہوں کو کھول دیا جائے جن پر بھارت پاکستان نے پہرے بٹھا کر ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کی زندگی محدود کر دی ہے ۔ وفد نے کہا کہ خطے میں امن ،ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کیلئے آر پار لوگوں کے درمیان میل ملاپ کو بڑھایا جائے اور انہیں ایک دودسرے کے قریب آنے کا موقعہ فراہم کیا جانا چاہیے ۔ وفد نے کہا کہ آر پار لوگوں کے مابین جذباتی وابستگی ہے اور اسے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتی ہے ۔ ہمیں کچھ مختلف کرنا ہو گا جسے خطے میں اعتماد بحال ہوسکے اور دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی اور تناؤ کا جو ماحول پایا جا رہاہے اسے ختم کیا جا سکے ۔
Comments are closed.