سات ہفتوں کے طویل عرصے کے بعد تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا  میر واعظ کی مسلسل نظر بندی کے خلاف احتجاج 

سرینگر/ 04اگست/ سات ہفتوں کے طویل عرصے کے بعد تاریخی جامع مسجد کے ممبرومحراب سے اذان گونجی اور سینکڑوں کی تعداد میں وادی کے اطراف واکناف سے آئے ہوئے فرزندان توحید نے نماز جمع ادا کر کے ریاست کے امن اور خوشحالی کیلئے دعا کی ،انتظامیہ کی جانب سے اگر چہ ناخوشگوار واقعا ت کو ٹالنے کیلئے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاہم کسی بھی علاقے سے ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی جبکہ حریت (ع) کے چیئر مین کو ایک دفعہ پھر تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دے دی گئی اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ۔ اے پی آئی نمائندے کے مطابق رمضان المبارک کی شب قدر اور جمعتہ الوداع کے بعدانتطامیہ نے 6ہفتوں تک لگاتار تارریخی جامع مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جس پر وادی کے مختلف علماء ،مذہبی تنظیموں اور تاجروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور تاجر انجمنوں نے شہر خاص میں لگاتار کرفیو نافذ کرنے اور تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے پر قدغن لگانے کے خلاف دھرنا بھی دیا ۔ 6ہفتوں کے طویل عرصے کے بعد شہر خاص کے نوہٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اس وقت رونق نوٹ آئی اور لوگوں کے چہرے ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے جب تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اذان گونجی ،بڑی تعداد میں لوگوں نے تاریخی جامع مسجدمیں نماز جمعہ ادا کیں ۔ انتظامیہ نے ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کیلئے پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی تھی تاہم شہر خاص کے کسی بھی علاقے سے ناخوشگوار واقعے کی کوئی بھی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ ادھر انتظامیہ نے بھی 6ہفتوں کے بعد شہر خاص کے 5پولیس اسٹیشنوں صفا کدل ، مہاراج گنج ، نوہٹہ ،خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں امتنائی احکامات نافذ نہیں کئے تھے ۔ شہر خاص میں نماز جمعہ کے بعد کاروباری سرگرمیاں شدو مد سے جاری رہی اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بھی جاری رہی ۔قابل ذکر ہے کہ نماز کے بعد درجنوں نمازیوں نے میر واعظ کی مسلسل نظر بندی کے خلاف احتجاج کیا ۔

Comments are closed.