جامع مسجد سرینگر کو نماز جمعہ پر مقفل کرنے کے خلاف تاجروں نے نوہٹہ چوک میں دھرنا دیا  اگر اس جمعہ پر بھی حکومت نے پابندی عائد کی تو اگلے جمعہ کو تاجر اور سیول سوسائٹی بندوشوں کی پرواہ کئے بغیر جامع مسجد میں نماز ادا کرئینگے/کشمیر اکنامک الائنس 

سرینگر؍03؍اگست۔جامع مسجد سرینگر کو نماز جمعہ پر مقفل کرنے کے خلاف تاریخی جامع مسجد کے صحن میں تاجروں نے دھرنا دیا۔ اس موقعہ پرکشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد سرینگر کی مسلسل گزشتہ2ماہ سے بند رکھنے کی کاروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے سرکار کے اس طرز عمل کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف امرناتھ یاترا کے دوران ریاستی حکومت کے سنتری سے منتری تک چوکس ہے،اور یاتریوں کو ہر طرح کی سہولیات فرہم کی جا رہی ہے،تو دوسری طرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کر رکے جامع مسجد سرینگر میں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ کشمیر اکنامک لائنس کے شریک چیئرمین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جامع مسجد سرینگر مسلمانان کشمیر کیلئے بالخصوص ایک مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور اس مرکزی کو مقفل رکھنی کی کسی بھی طور اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھی محبوبہ مفتی کی سربراہی والی حکومت نے مسلسل19ہفتوں تک جامع مسجد سرینگر کو بند رکھا تھا اور رواں سال کے دوران بھی گزشتہ6ہفتوں سے اس تاریخی مسجد مین نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔فاروق احمد ڈار نے کہا کہ جامع مسجد کو بند رکھنے کی وجہ سے وہاں کی تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے اور گزشتہ دو ماہ سے آئے دن پابندیوں کی وجہ سے قریب150کروڑ روپے کے نقصانات سے جامع مسجد اور دیگر نواحی علاقوں کے تاجروں کو نقصانات کا سامنا کرنا پرا۔انہوں نے سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کی مسلسل رہائشی نظر بندی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انکی فوری رہائی رہا کیا جانا چاہے۔

Comments are closed.