بندوق لائسنس معاملے کی تحقیقات میں نیا مو ڈ

مختلف اضلاع سے اہم رےکارڈ طلب

ڈپٹی کمشنروں،اےڈشنل ڈپٹی کمشنروں سمےت 70افسران کے خلاف گھےرا تنگ

سری نگر 06،ستمبر کے این ایس رےاست جموں و کشمےر مےں کچھ ماہ قبل طشت از بام ہو ئے ’بندوق لائسنس‘ اسکےنڈل کی تحقےقات سی بی آئی کے زرےعے سے کرانےکی آواز کے بےچ رےاستی وےجلنس نے معاملے کی ابتدائی چھان بےن کے دوران70کے قرےب ضلع کمشنروں،اےڈشنل ڈپٹی کمشنروں کوبندوق لائسنس معاملے اور دےگر بدعنوانےوں مےں ملوث پاکر ان کے خلاف با جا بطہ طور پر کاروائی کرنے کا من بنالےا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ ادارے نے مختلف اضلاع سے رےکارڈ طلب کرتے ہو ئے کروڈوں روپے مالےت کے وسےع اسکےنڈل کی بارےک بےنی سے تحقےقات کا آغاز کر دےا ہے ۔ رےاست جموں کشمےر مےں گزشتہ ماہ طشت ازبام ہو ئے غےر قانونی طور پر بندو قوں کی لائسنس اجراءکے معاملے پر محکمہ وےجلنس نے کاروائی کا آگاز کرتے ہو ئے رےاست بھر کے مختلف اضلاع سے تقرےباً70کے قرےب اعلیٰ افسران کو شک کے دائرے مےں لاکر ان کے خلاف شواہد اکھٹا کر نے شروع کر دئے ہےں ۔با وثوق ذرائع نے کے اےن اےس کو اس حوالے سے بتاےا کہ محکمہ وےجلنس نے رےاست مےں بندوق لائسنس کی غےر قانونی طور پر اجرائی کی تحقےقات کے حوالے سے مختلف اضلاع سے رےکارڈ طلب کےا ہے ۔انہوں نے بتاےا ہے کہ محکمہ وےجلنس نے سرےنگر ،راجوری،بارہمالہ،کپوارہ،ادھمپور سمےت مختلف اضلاع سے رےکارڈ طلب کرتے ہو ئے کروڈوں روپے مالےت کے اسکےنڈل کی تحقےقا ت کا آ غاز کر دےا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سر حدی ضلع کپوارہ مےں 20ہزار کے قرےب بندوق لائسنس اجراءکی گئی ہےں۔انہوں نے بتاےا کہ لائسنسوں کی اجرائی مےں اکثر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھا گےا ہے ۔انہوں نے بتاےا کہ بڑی تعداد مےں بندوق لائسنسوں کی اجرائی سے ےہ بات پائے ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ انتطامےہ کے اعلیٰ افسران اور بندوق فراہم کر نے والی کمپنےوں کے در مےان آ پسی ملی بھگت معلوہو تی ہے ۔ذرائع نے کے اےن اےس کو بتاےا کہ جوں ہی اسکےنڈل طشت از بام ہوا تو ابتداءمےں صرف کپوارہ اور ادھمپور کو شک کے دائرے مےں لاےا گےا تاہم جوں جوں معاملے کی تحقےقات وسےع ہو تی گئی اس مےں مزےد اضلاع شامل ہو تے گئے ۔انہوں نے بتاےا کہ محکمہ وےجلنس نے معاملے کی گہرائی سے چھان بےن کر نے کے لئے راجوری ،بارہمولہ،سرےنگر ،بڈ گام،،پلوامہ سمےر دےگر کئی اضلاع کے ضلع ترقےاتی کمشنروں کے دفتروں سے اہم رےکارڈ طلب کےا ہے تاکہ وہ اس معاملے مےں ملوث افراد اور افسران کے خلاف کاروائی کر سکےں ۔انہوں نے بتاےا کہ اےڈشنل ڈپٹی کمشنروں نے بھی مبےنہ طور پر بڑی تعداد مےں بندوق لائسنسوں کی اجرائی مےں اپنا اہم کر دار ادا کےا ہے جس کے لئے محکمہ وےجلنس نے 70کے قرےب ان اعلیٰ افسران کو شک کے دائرے مےں رکھا ہے اور با ضا بطہ طور پر اس معاملے مےں بارےک بےنی سے تحقےقات کا آغاز کر دےا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ بندوق لائسنسوں کی بے درےغ اجرائی کی خبرےں منظر عام پر آنے کے بعد سابق مخلوط حکومت نے کےس کی تحقےقات سی بی آئی کے زرےع سے کرانے کا من بنالےا تھا جس کے لئے انہوں نے سی بی آئی کو تحرےری طور بھی آگاہ کےا تھا تاہم2ماہ کا عر صہ گزر جانے کے باو جود بھی سی بی آئی نے ابھی تک کےس کے حوالے سے کوئی جواب نہےں دےا ۔ذرائع نے بتاےا کہ اس اسکےنڈل مےں کئی بڑے آئی اے اےس افسران ملوث ہےں تاہم مخلوط حکومت کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو نے کے بعد رےاست مےں آئی اے اےس لابی کےس کو دبانے مےں متحرک ہو گئی ۔اس دوران عوامی حلقوں نے گور نر انتظامےہ سے مطالبہ کےا کہ وہ کےس کی بارےک بےنی سے تحقےقات عمل مےں لا کر بڑے مگر مچھوں کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف کاروائی عمل مےں لائے۔عوامی حلقوں نے گور نر سے مطالبہ کےا ہے کہ قانون کی ضرب صرف چھوٹے افسران پر ہی نہےں پڑنی چاہئے بلکہ اس اسکےنڈل مےں ملوث تمام افسران و اہلکاروں کو قانون کے شکنجے مےں لاےا جائے ۔

Comments are closed.