قیاس آرائیوں پر مبنی مضامین سے اجتناب کیا جائے: ایس پی وید

سری نگر ، جموں کشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے کہا ہے کہ ریاستی پولیس کو دہائیوں سے پراکسی وار (درپردہ جنگ) کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی مضامین تحریر کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر وید نے ان خیالات کا اظہار مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کیا ہے۔انہوں نے دراصل ایک ٹی وی رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں کہا گیا کہ مرکزی وزارت داخلہ جموں کشمیر پولیس سے ناخوش ہیں اور ایس پی وید کی جگہ عنقریب ایک نئے پولیس سربراہ کو تعینات کیا جائے گا۔

ڈاکٹر وید نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’جموں وکشمیر پولیس کو دہائیوں سے پراکسی وار (درپردہ جنگ ) کا سامنا ہے۔ اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ریاستی پولیس کے اہلکاروں اور عہدیداروں کے لئے عزم اور ہمت کی ضرورت ہے۔
قیاس آرائیوں پر مبنی مضامین جو اِن (اہلکاروں اور عہدیداروں) کے حوصلے کو کمزور کررہے ہوں، سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ این ڈی ٹی وی، جہاں تک تبادلے کی بات ہے، یہ معمول کا عمل ہے اور حکومت کے حد اختیار میں ہے‘۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ ریاستی پولیس کے حالیہ اقدام جس کے تحت تین پولیس اہلکاروں اور آٹھ پولیس اہلکاروں و عہدیداروں کے قریبی رشتہ داروں کے جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا کے بعد قریب ایک درجن جنگجوؤں کے رشتہ داروں بشمول حزب المجاہدین کمانڈر ریاض نائیکو کے والد کو جیل سے رہا کیا گیا، سے ناخوش ہے۔

تاہم وزارت داخلہ نے ٹی وی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر پولیس سے ناخوش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزارت داخلہ کے عہدیدار بھارت بھوشن بابو نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’مرکزی وزارت داخلہ نے ان رپورٹوں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا کہ وزارت جموں کشمیر پولیس سے ناخوش ہیں۔ وزارت داخلہ نے جموں کشمیر پولیس کے کام کاج کو متعدد بار سراہا ہے۔ اس فورس کے اہلکاروں نے کافی قربانیاں دی ہیں۔ ریاستی پولیس سے عدم اطمینان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔ دریں اثنا ریاست کے نو منتخب گورنر ستیہ پال ملک نے عبدالغنی میر کی جگہ بی سرینواس کو کرائم انوسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا نیا ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) تعینات کیا ہے۔یو این آئی

Comments are closed.