مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے مودی کو واجپائی بننا ہوگا:محبوبہ مفتی

راجوری:پی ڈی پی صدر و سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور مفاہمتی عمل کو ناگزیر قرار دیاہے۔ راجوری میں پارٹی عہدادران ، ورکروں اور کارکنان کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ دونوں ممالک کو اپنی انا سے اوپر اٹھ کر سیاسی عمل شروع کرنا ہوگا تاکہ جموں وکشمیر میں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر بنے۔ انہوں نے کہاکہ اقتصادی پیکیج سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں، اگر چہ سڑکیں، پل اور بجلی ضروری ہے لیکن جب تک مذاکرات نہیں ہوتے تنازعہ ختم نہیں ہوگا اور لوگوں کو راحت نہیں ملے گی۔ وزیر اعظم ہندنریندر مودی سے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ جنوبی ایشیاءمیں امن تبھی ممکن ہے اگر جموں وکشمیر کا مسئلہ حل ہوجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کا حل کرنے کے لئے نریندر مودی کو واجپائی بننا ہوگا اور وہیں سے اس امن عمل کو آگے بڑھانا ہوگا جہاں واجپائی صاحب چھوڑ گئے تھے۔

جموں وکشمیر کے لوگوں کی خاطربھاجپا سے حکومت بناکر’زہر کا گھونٹ‘پیا
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر میں دیرپاقیام امن کوتعمیر وترقی وخوشحالی کے لئے ناگزیر اور پہلی شرط قرار دیتے ہوئے کہا پی ڈی پی کا ایجنڈا ہی اس کی حصولی کا واحد حل ہے جوکہ مرحوم مفتی محمد سعید کی 50سالہ سیاسی تجربہ کا نچوڑ ہے۔محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ الائنس کو ’زہر کا گھونٹ‘پینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ صرف اور صرف جموں وکشمیر کی عوام کے وسیع ترمفاد کے لئے کیاگیاتھا جس سے ذاتی طور پارٹی کو نقصان بھی اُٹھانا پڑا۔راجوری میں کنونشن سے خطاب کے دوران محبوبہ مفتی نے اپنی تقریر میں سابقہ وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی کو بھی بھرپور تعریف کی اور سال 2003میں پاکستان کے ساتھ لال چوک سری نگر سے دوستی کا ہاتھ ملانے کے تاریخی اعلان، نارتھ ساو¿تھ کاری ڈور کی سری نگر تک تعمیر ودیگر تاریخی اقدامات کا ذکر کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ذاتی طور وہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے حق میں نہیں تھیں لیکن ان کے والد مرحوم مفتی محمد سعید نے اس وقت کہاکہ جموں وکشمیر کی عوام کے وسیع ترمفادکی خاطر بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملایا، کیونکہ ان کا ماننا تھاکہ مودی چونکہ بھاری اکثریت سے جیتے ہیں، وہ کشمیر مسئلہ سے متعلق کوئی فیصلہ لیں گے پر افسوس ایسا ہوا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی جماعت پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا کر قربان کیا، وہ صرف عوام کی خاطر، یہاں امن لانے کی خاطر۔ انہوں نے کہا”میرے والد کا خواب تھاکہ وہ جموں وکشمیر کی عوام کو مصیبت سے نکالیں اور یہاں پر دیاپر قیام امن قائم ہو، وہ صرف بجلی، پانی اور سڑک کے وزیر اعلیٰ نہیں بننا چاہتے تھے،وہ کہتے تھے اگر ہماری ہستی مٹ جاتی ہے، پی ڈی پی کو نقصان ہوجاتا ہے پر میرا جموں وکشمیر بچ جاتا ہے تو بہتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ والد کی وفات کے بعد وہ دوبارہ سے بھاجپا کے ساتھ حکومت نہیں بنانا چاہتی تھیں لیکن مرحوم والد کے خواب کی تکمیل کے لئے یہ کڑواہ گونٹ پینا پڑا۔آپ کی ہستی مٹ، میرا جموں وکشمیر بچ جاتا ہے تو ، ان کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ مشکل حالات ایسے رہے کہ کام کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہاکہ سال 2015میںکرسی تو ہمیں ایسے بھی مل جانی تھی، اگر کانگریس کے ساتھ ہاتھ ملاتے لیکن جموں وکشمیر کو مصیبت سے بچانے کے لئے ایسا کیا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ واجپائی حکومت کے بعد کانگریس نے دس برس کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوئی پیش رفت نہ کی۔ مودی لاہور چلے گئے لیکن اس کے بعد پٹھانکوٹ حملہ ہوگیا، دوبارہ کوشش کی جانی چاہئے تھی لیکن نہیں کی گئی۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ انہوں نے تعمیر وترقی کی بھی بات کی، کئی کام ہوئے لیکن ان کی پہلی ترجیحی مسئلہ کشمیر کا حل تھا۔ انہوں نے واضح کیاکہ جموں وکشمیر کا پر امن حل پی ڈی پی کے ایجنڈا میں ہی مضمر ہے، انہوں نے مطالبہ کیاکہ نوشہرہ، کرگل اسکردو، سچیت گڑھ سے آر پار راستے کھولے جائیں، کشمیر کی آر پار کی عوام کو آپس میں ملایاجائے۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشمیر مسئلہ پر بات چیت ہو، یہی پی ڈی پی روز اول سے چاہتی ہے اور آج بھی یہی مانگ ہے۔ اقتدار میں بھی اسی پرو زور دیاگیا۔ انہوں نے راجوری پونچھ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سال2003کے بعد امن ہوا تبھی یہاں مغل شاہراہ تعمیر ہوئی، راجوری یونیورسٹی بنی اور دیگر کام ہوئے، اس لئے امن پہلی شرط ہے ۔

بطور وزیر اعلیٰ ریاستی عوام کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا
پی ڈی پی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے ریاستی عوام کی عزت کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہونے دیا اور خصوصی پوزیشن کا دفاع ہر سطح پر مضبوطی کے ساتھ کیا چاہئے وہ عدالت میں کیس کی پیروی ہو یا پھر بھاجپا کی اعلیٰ قیادت پر دباو¿ بنانا ہو۔محبوبہ مفتی جوکہ بی جے پی کے ساتھ حکومت گرنے کے بعد پہلی مرتبہ صوبہ جموں کے تفصیلی دورہ پر ہیں، نے راجوری میں پارٹی ورکروں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا”میں آپ سب کو واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ بطور وزیر اعلیٰ دو سال دو ماہ میں نے جموں وکشمیر کی عوام کی عزت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونے دیااور ڈنکے کی چوٹ پر اپنی ہر بات مرکزی سرکار سے منوائی“۔انہوں نے کہاکہ’ دفعہ35Aکا معاملہ ہویا پھر کٹھوعہ آبروریزی وقتل معاملہ ،میں نے ریاستی عوام کے مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، بار بار مرکز میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ ودیگر وزرا ءسے ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنی بات رکھی اور وہ بات منوائی۔رسانہ معاملہ میں ملزمین کے حق میں جب بھارت کے جھنڈے اٹھاکر ریلی نکالی گئی تو میں نے اس پر اعتراض کیا، جب ہماری کولیشن جماعت بی جے پی کے دو منسٹرریلی میں گئے تو میں نے ان کو وزارت سے باہر نکال کر دم لیا۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ جب بھی دفعہ35Aکیے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش ہوئی تو میں نے بھاجپا کو دھمکی دی کہ اگر عدالت کے ذریعہ خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی تو حکومت سے الگ ہوجاو¿ں گی۔بطور وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر کے مفادات کا ہرلحاظ سے تحفظ کیا اور اس کے لئے بار بار دہلی گئی۔محبوبہ مفتی نے کہا’ قبائلی آبادی کو تنگ کیاجارہاتھا، میں نے میٹنگ بلائی جس میں واضح ہدایات جاری کیںکہ جب تلک فارسٹ پالیسی نہیں بنتی کہیں بھی قبائلی آبادی کو تنگ طلب نہ کیاجائے اور ناجائزتجاوزات ہٹانے کے نام پر ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ہر ایک کاتحفظ کیا، کسی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔محبوبہ مفتی نے جلسہ میں موجود عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ کافی عرصہ سے مجھے گھٹن ہورہی تھی، میں آپ کے روبرو آنا چاہتی تھی تاکہ آُ سے دل کی بات کہہ سکوں ، ایک بوجھ سا محسوس ہورہاتھا، آج دل ہلکا ہوا ہے۔

Comments are closed.