رنجن گگوئی ہونگے نئے قاضی القضات

دفعہ35Aکیس کی اگلی سماعت سپریم کورٹ کانیاتین نفری خصوصی بینچ کرے گا

نئی دہلی:دفعہ35Aکیس کی اگلی سماعت سپریم کورٹ کاایک نیاسہ رکنی بینچ کرے گاکیونکہ 2اکتوبرکوموجودہ چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراسبکدوش ہورہے ہیں ،اور3اکتوبرکوسپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس رنجن گگوئی نئے چیف جسٹس کاچارج سنبھالیں گے ۔

مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس رنجن گوگوئی عدالت عظمیٰ کے اگلے چیف جسٹس بننے جا رہے ہیں۔ وہ 3، اکتوبر کو اگلے چیف جسٹس کی شکل میں حلف لیں گے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرااپنے جانشین یا اگلے چیف جسٹس کےلئے جسٹس رنجن گوگوئی کے نام کی سفارش حکومت ہند کی وزارت قانون سے کرنے جا رہے ہیں۔

بتایاجاتاہے کہ اس سے پہلے مرکزی وزارت قانون نے موجودہ چیف جسٹس دیپک مشراسے اُن کے جانشین کے نام کی سفارش کرنے کے لئے کہا تھا کیونکہ چیف جسٹس مشرا 2، اکتوبر کو سبکدوش ہونے والے ہیں۔ رنجن گوگوئی چیف جسٹس کے طور پر اپنی ذمہ داری تقریباً ایک سال نبھائیں گے کیونکہ نومبر 2019 میں وہ بھی سبکدوش ہو جائیں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکزی وزارت قانون نے پروٹوکول کے تحت چیف جسٹس دیپک مشرا سے ان کے جانشین کے نام کی سفارش بھیجنے کے لئے کہا تھا جس کے تحت جسٹس مشرا نے ہفتہ کے روز اپنی سفارش وزارت قانون کو بھیج دی ہے۔

حالانکہ ابھی اس کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن اب تک کی روایات کے مطابق سپریم کورٹ میں سب سے سینئر جج کو ہی چیف جسٹس بنایا جاتا ہے۔ سینارٹی کے مطابق دیکھا جائے تو جسٹس گوگوئی چیف جسٹس دیپک مشرا کے بعد سب سے سینئر ہیں۔ ایسے میں روایات کی بنیاد پر ان کا چیف جسٹس بننا طے مانا جا رہا ہے۔

آسام سے تعلق رکھنے والے جسٹس رنجن گوگوئی کی پیدائش 18 نومبر1954 کو ہوئی۔ انھوں نے 1978 میں اپنی وکالت کی شروعات کی تھی۔ جسٹس رنجن گوگوئی کو۲۸ فروری ۲۰۰۱کو گوہاٹی(آسام) ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔ اس کے بعد 9 ستمبر2010 کو ان کا ٹرانسفر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں ہوا۔

12 فروری 2011 کو وہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے۔ اس کے بعد وہ23 اپریل2012 کو سپریم کورٹ کے جج بنائے گئے۔غور طلب ہے کہ جسٹس رنجن گوگوئی سپریم کورٹ کے ان 4 ججوں میں شامل رہے ہیں جنھوں نے اس سال جنوری میں غیر یقینی قدم اُٹھاتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقہ کار اور عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

Comments are closed.