2و روزہ سیول کرفیو کے بعد جواہرٹنل کے آرپارمعمولاتِ زندگی بحال
شوکت ساحل
سرینگر: دفعہ 35 اے معاملے پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر پیر پنچال کے آرپار فقیدالمثال مسلسل دو روز تک جاری رہنے والے سیول کرفیو کے بعد ہفتہ کو ٹنل کے آر پار معمولات زندگی بحال ہوگئے۔
تجارتی مرکز لالچوک سمیت تمام بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں اورسڑکوں وشاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی سرگرمی معمول کے مطابق واپس پٹری پر لوٹ آئی جبکہ بارہمولہ ۔بانہال ریل سروس کو بھی دوبارہ بحال کردیا گیا۔گوکہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آرٹیکل 35اے پر سماعت جنوری 2019تک موخر کی ،تاہم ریاست جموں وکشمیر کے عوام میں اب بھی اضطرابی کیفیت برقرار ہے ۔
وادی میں ہفتہ کو2روز کے بعد زندگی معمول پر آگئی۔ سرینگر شہر سمیت وادی کے تمام علاقوں میں زندگی پٹری پر لوٹ آئی اور دکانات ، کاروباری اداروں اور سرکاری وغیر سرکار ی تعلیمی ادارے کھل گئے جبکہ دوروز تک بازوں میں بے رونق رہنے والی سرگرمیوں میں دوبارہ رونق دیکھنے ملی ۔بازاروں میں بارشوں کے باوجود غیر معمولی گہماگہمی دیکھنے کو ملی ۔ سرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں احتیاطی طور نافذ کی گئیںناکہ بندیوں کوہٹالیا گیا اور کسی بھی جگہ بندشوں اور قدغنوںکا نفاذ عمل میں نہیں لایا گیا۔
لالچوک، ریگل چوک ، گونی کھن ، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ ، مہاراج بازار ، نوہٹہ ، ڈلگیٹ ، صورہ ،کرن نگر اور دوسرے بازاروں میں لوگوں کا زبردست رش رہا۔ سرینگر سمیت کئی قصبوںمیں جگہ جگہ پر کئی کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام لگارہا۔سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل دوروز بعد بحال ہوگیا ۔ادھر وادی میں دو دنوں تک معطل رہنے والی ریل خدمات ہفتہ کی صبح بحال کردی گئیں۔
یاد رہے کہ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف ہورہی مبینہ سازشوں کے خلاف ریاست کے بیشتر حصوں میں دوسرے مرحلے کے احتجاجی پروگرام کے تحت جمعرات اور جمعہ کو فقیدالمثال ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے نظام زندگی کلی طور پر معطل رہا۔
دو روزہ ہڑتال کی کال کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی۔ ہڑتال کے دوران وادی میں ریل خدمات معطل رکھی گئیں جبکہ امتحانات کو ملتوی کیا گیا تھا۔
جمعہ کو ہڑتال کے دوران انتظامیہ نے ریاست کی گرمائی دارالحکومت سری نگر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں جسکی وجہ سے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نمازجمعہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکی۔ تاہم وادی کے کسی بھی علاقہ میں آج کوئی پابندیاں نافذ نہیں ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے کچھ حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ۔
جموں وکشمیر کے تقریباً تمام حصوں میں ہفتہ کی صبح دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوئی۔ تعلیمی ادارے کھل گئے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بحال ہوا۔
ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا ’ ہم نے آج تمام ریل گاڑیوں کی معمول کی خدمات بحال کردیں‘۔ادھر پیر پنچال اور وادی چناب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو روز بعد یہاں بھی معمول کی تمام طرح کی سرگرمیاں بحال ہوئیں ۔پیر پنچال اور وادی چناب کے مسلم اکثریتی والے اضلاع میں وادی کشمیر کی طرح دکانات ،وکاروری ادار ے،تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول کے مطابق سڑکوں پر رواں دواں رہا ۔تعلیمی اداروں میں بھی درس وتدریس کا عمل بحال رہا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں مستقل رہائشیوں کے تعلق سے اسمبلی کے مخصوص حقوق والے آئین کے آرٹیکل35 اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضی کی سپریم کورٹ میں سماعت اگلے برس جنوری کے دوسرے ہفتے تک کے لئے ملتوری ہوگئی ہے۔
جموں کشمیر حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت عظمی میں دلیل دی گئی ہے کہ ریاست میں پنچایتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسی صورت میں اس معاملے کی سماعت سے امن و قانون کی صورتحال پر اثر پڑسکتا ہے۔ اس لئے معاملے کی سماعت پنچایتی انتخابات کے بعد کی جائے۔
اس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت اگلے برس جنوری کے دوسرے ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی۔ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشار مہتہ اور مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے پیروی کی۔
وینو گوپال نے عدالت سے یہ کہتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی گزارش کی کہ ریاست میں پنچایتی انتخابات ہونے والے ہیں اور بڑے پیمانے پر نیم فوجی دستے تعینات کئے جارہے ہیں۔ اگر اس وقت سماعت کی گئی تو ریاست میں امن و قانون کابڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد معاملے کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
گزشتہ 27 اگست کو بھی چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھان ولکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے اس سے متعلق ایک نیا معاملہ سماعت کے لئے نہیں لیا تھا کیونکہ عرضی گزار اشونی اپادھیائے نے خود ہی سماعت ملتوی کرنے کی رجسٹری سے گزارش کی تھی۔
Comments are closed.