ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ: تمام سرکاری ملازمین کیلئے گروپ میڈ کلیم انشورنس پالیسی کومنظوری

سری نگر:ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ آج گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقد ہوئے جس میں ایک اہم فیصلے کے تحت تمام سرکاری ملازمین اور ان کے ارکان کنبہ کے لئے گروپ میڈکلیم انشورنس پالیسی کی عمل آوری کو منظوری دی گئی ۔ ان میں پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس/ خود مختار اداروں / یونیورسٹیوں کے لئے لازمی طور پر اس پالیسی کی عمل آوری جبکہ پنشنروں ، اے آئی ایس افسروں ، ایڈہاک ، کنٹریکچول ، ڈی آر ڈبلیو ، ورک چارچڈ اور کنٹنجنٹ پیڈ ورکروں اور ان کے افراد خانہ کے لئے آپشنل بنیادوں پر اس سکیم کی عمل آوری یکم اکتو بر 2018ءسے نافذ ہوگی ۔ ایک سال تک جاری رہنے والی اس پالیسی کو تین برسوں تک سالانہ کی بنیادوں پر توسیع دی جائے گی۔
پالیسی میں انفرادی ملازمین کے لئے میڈیکل انشورنس کور 6لاکھ روپے ہوگا جبکہ افراد خانہ کے لئے یہ انشورنس 5لاکھ روپے تک ہوگا اور اس میں 10کروڑ روپے کا کارپوریٹ بفر ہوگا ۔ملازمین کو سالانہ 8776.84 روپے کا سالانہ پریمیم ادا کرنا ہوگا اور اس میں 3600روپے ( میڈیکل الاﺅنس) کاٹے جائیں گے جو 5176.84روپے کے برابر ہوں گے ۔اسی طرح پنشنروں کے لئے یہ رقم سالانہ 22228 روپے ہوگی جس میں سے 3600روپے ( میڈیکل الاﺅنس) کاٹے جائیں گے جو سالانہ 18628روپے کے برابر ہوں گے۔
اس کے علاوہ سالانہ پریمیم ملازمین کی تنخواہوں سے چار قسطوں میں کاٹے جائیں گی اور اس کے لئے محکمہ خزانہ الگ سے نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
پالیسی کے ذریعے سے علاج و معالجہ ملک بھر کے پانچ ہزار ہسپتالوںمیں کرانے کی گنجائش ہوگی۔خواتین ملازمین کے لئے بھی خوشخبری یہ ہے کہ ان کے لئے میٹرنٹی خرچے کی حد ریاست میں 30ہزار روپے جبکہ ریاست کے باہر 70000 روپے تک بڑھایا گیا ہے ۔ اسی طرح پنشنروں کو بھی پالیسی سے پہلے کے ٹیسٹ نہیں کرانا ہوں گے اور انہیں لاحق کوئی بھی بیماری فوری طور سے پالیسی کے دائرے میں آئے گی۔اسی طرح افراد خانہ کے لئے انشورنس کوریج 100برس تک بڑھادی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے کی پالیسی میں یہ حد 80 برس تھی۔
کافی تعداد میں ملازمین اور پنشنروں کو فائدہ دیتے ہوئے اس پالیسی میں اخراجات کو پورا کرنے کے لئے 10کروڑ روپے کا کارپوریٹ بفر قائم کیا گیا ہے تاکہ ملازمین اور پنشنروں کی نشاندہی شدہ بیماریوں پر پالیسی سے زیادہ خرچے کو زیادہ برداشت کیا جائے ۔
پہلی مرتبہ انشورنس کرنے والے ایم آئی ایس رپورٹ فراہم کریں گے جس میں انٹرولمنٹ ، ایڈمیشن ، پراتھورائزیزیشن ، کلیم سیٹلمنٹ اور دیگر جانکاری دستیاب ہوگی۔
اس کے علاوہ انشورنس کرنے والے ایک ویب سائٹ ضلع اور ریاستی سطح پر تشکیل دیں گے جن میں ہسپتالوں کی جانکاری اور دیگر سہولیات سے متعلق جانکاری دستیاب ہوگی اور اسے مستحقین استفادہ کرپائےں گے۔
اسی طرح پہلی مرتبہ پیشہ ور کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جارہی ہے تاکہ ملازمین اور پنشنروں کے لئے شکایتیں حل کرنے ایک مو¿ثر نظام وجود لایا جاسکے ۔کنسلٹنٹ نے پہلے ہی تمام ضلعوں میں شکایتیں حل کرنے کے دفاتر قائم کئے ہیں اور ملازمین اور پنشنر پالیسی کی عمل آوری کے حوالے سے کوئی بھی مشکلات حل کرنے کے لئے ان دفاتر سے رجوع کرسکتے ہیں۔

Comments are closed.