مودی حکومت کی کشمیر پالیسی مکمل طور پر ناکام : ڈاکٹر کمال

سرینگر:: وادی میں جاری خون خرابہ، مار دھاڈ، ظلم و تشدد، شبانہ چھاپوں اور بے تحاشہ گرفتاریوں پر زبردست تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ یہی حالات کو پٹری پر لانے کا واحد طریقہ ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سخت گیر اور دھونس و دباﺅ کی پالیسیاں ماضی میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئیں اور نہ مستقبل میں یہ طریقہ کار کام آنے والا ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر کارکنوں اور عہدیداروں کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3سال سے ریاست خاص کر وادی میں روا رکھی گئی سخت گیر پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں، آئے روز ہلاکتیں ہورہی ہیں، نئی پود میں غم و غصہ کی لہر بڑھتی جارہی ہے، نوجوانوں کا جنگجوﺅں کی صفوں میں شامل ہونے کا رجحان حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور مرکز کو مزید وقت ضائع کئے بغیر کشمیر کے تئیں اپنے اپروچ میں تبدیلی لانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھاجپا اپنے حقیر سیاسی مفادات کیلئے کشمیر میں ہانڈی گرم رکھنا چاہتی ہے تو اس سے بڑی بدقسمتی کی بات کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن انہیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ کہیں یہ طریقہ کار ملک کی آزادی اور سالمیت کیلئے خطرہ نہ بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کیخلاف چاروں طرف سے مصائب اور مشکلات پیدا کئے جارہے ہیں ایک طرف حالات کو جان بوجھ پر بد سے بدتر بنایا جارہا ہے اور دوسری جانب ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی سازشیں کرکے ریاست کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنے کا بندوبست بھی کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مرکزی سرکار اگر واقعی کشمیر کے تئیں سنجیدہ اور فکر مند ہوتی تو اس نے سپریم کورٹ میں 35Aکیخلاف دائر عرضی پر پہلے ہی حلف نامی دائر کرکے اس عرضی کو سماعت کیلئے منظور ہونے نہیں دیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ35Aکے خلاف جاری کیس کے تئیں مرکزی حکومت کا رویہ اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ نئی دلی بھی اس دفعہ کو ختم کرنے کیلئے پشت پناہی کررہی ہے۔ معاون جنرل سکریٹری نے کہا کہ جموں وکشمیر کا ہر ایک پشتینی باشندہ اس وقت دفعہ35Aکے دفاع کیلئے سربہ کفن ہے ، جو مرکزی حکومت کیلئے چشم کشا ہونا چاہئے۔

Comments are closed.